طالبان کا 90 فیصد سرحدی کنٹرول کا دعویٰ چھوٹ ہے، ترجمان افغان وزارت دفاع

کابل (ڈیلی اردو) فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے ملک کے 90 فیصد سرحدی علاقوں پر قبضے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے افغان حکومتی عہدیداروں نے اسے چھوٹ قرار دے دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امین کا کہنا تھا کہ ‘یہ بے بنیاد پروپیگنڈا ہے’۔

یاد رہے کہ طالبان اور افغان حکومت، دونوں کے ہی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

گزشتہ روز طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے افغانستان کے ہمسایہ مملک تاجکستان، ایران، ترکمانستان اور پاکستان کے ساتھ منسلک سرحدوں پر 90 فیصد کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
جس پر رد عمل دیتے ہوئے افغان وزارت دفاع کے نائب ترجمان نے اصرار کیا کہ افغان فورسز کے پاس ملک کے بیشتر حصے کا کنٹرول موجود ہے اور وہ سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود اہم شہروں اور ہائی ویز کا کنٹرول بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں افغان وزارت داخلہ کے ترجمان میرواعظ سنتکزئی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ‘افغان فورسز بہت جلد دہشت گردوں سے بدلہ لیں گی’۔

واضح رہے کہ اپریل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر سے قبل امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہو جائے گا، یہ وہ تاریخ ہے جب نائن الیون واقعے کی برسی منائی جائے گی۔

امریکی صدر کے اعلان کے ساتھ ہی افغانستان سے امریکا سمیت دیگر ممالک کی افواج نے انخلا شروع کردیا تھا اور بتایا جا رہا ہے کہ یہ انخلا اگست کے آخری ہفتے میں مکمل ہوجائے گا تاہم دوسری جانب غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے افغانستان کے بیشتر اضلاع پر قبضہ حاصل کرلیا اور وہ مزید پیش قدمی کررہے ہیں جس سے افغان حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔

خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد جنگ زدہ ملک میں 20 سال تک جاری رہنے والی امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ بھی اختتام پذیر ہوجائے گی لیکن زمینی حقائق ملک میں ایک اور خانہ جنگی کا پیش گوئی کررہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں