روس کا افغانستان میں داعش کی موجودگی کا انتباہ

دوشنبہ (ڈیلی اردو) روس کا کہنا ہے کہ وہ تاجکستان میں اپنی ملٹری بیس کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا اور مقامی فوجیوں کی تربیت کر رہا ہے۔

ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم ‘داعش’ کے جنگجو تاجکستان کے پڑوسی افغانستان جارہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگئی شوئگو، جو بات چیت کے لیے تاجکستان میں موجود ہیں، نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے باعث سیکیورٹی صورتحال تیزی سے بگڑی ہے۔

اس انخلا نے ماسکو کو اشارہ ملا کہ وہ مسلم اکثریتی وسطی ایشیائی ملک میں ممکنہ بڑے سیکیورٹی چیلنج کے پیش نظر تیاری کرے۔

ماسکو نے خاص طور پر شمالی افغانستان میں داعش عناصر کی بڑھتی ہوئی طاقت پر خدشہ ظاہر کیا ہے۔

سرگئی شوئگو کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجو شام، لیبیا اور دیگر متعدد ممالک سے افغانستان جارہے ہیں۔

‘آر آئی اے’ نیوز ایجنسی نے ان کے حوالے سے کہا کہ افغانستان کے کچھ حصے میں ہم داعش کے جنگجوؤں کی بہت منظم نقل و حمل دیکھ رہے ہیں۔

سرگئی شوئگو نے امریکی فوجی انخلا کو ‘جلد بازی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو، روسی فوجی جامعات اور تاجکستان میں اس کی ملٹری بیس سے منسلک مراکز میں تاجک فوجی اہلکاروں کی تربیت کر رہا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم فوجی تربیت کے لیے ضروری تمام تر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی بیس کی جنگجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے اور شدت پسندوں کی ممکنہ دراندازی کو مشترکہ طور پر پسپا کرنے کے منصوبے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں’۔

سینئر روسی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ماسکو، شمالی افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کو سیکیورٹی کے لیے زیادہ خطرے کے طور پر دیکھتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ زیادہ شدت پسند گروپ پے۔

روس، تاجکستان اور ازبکستان اگلے ہفتے افغانستان سے متصل تاجک سرحد کے قریب مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کریں گے، جہاں طالبان نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور وہ ملک کے 90 فیصد سرحدی علاقے پر قبضے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں