داعش کے دوبارہ منظم ہونے سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہوگیا، اقوام متحدہ

جنیوا (ڈیلی اردو) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو داعش سے لاحق خطرات پھر سے بڑھ رہے ہيں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل انتونيو گوتریس نے سلامتی کونسل میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ شام عراق اور براعظم افریقا کے کئی ممالک میں مقامی شدت پسند گروہ داعش میں شامل ہورہے ہیں جس کے باعث یہ تنظیم دوبارہ منظم ہورہی ہے۔

رپورٹ ميں یہ بھی کہا گيا ہے کہ دہشت گرد گروہ کورونا کے باعث فوجی آپریشن نہ ہونے کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں ترقياتی کام تعطل کا شکار رہے تاہم وبا کے دور ميں ٹيکنالوجی کا استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروہوں نے ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھایا ہے جب کہ مجموعی طور پر بھی کورونا وبا کے دوران سائبر کرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ انٹرنیٹ کا غلط استعمال بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں داعش کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں تاہم جنگجو اب بھی گوریلا حملے کر رہے ہیں۔ یہ جنگجو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو کمزور اور فرقہ وارانہ فسادات کرکے میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ میں انتہا پسند گروہ کے مالی معاملات کے متعلق کہا گیا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے لیے دستیاب مالی ذخائر کا تخمینہ 25 ملین ڈالر سے 50 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ زیادہ تر فنڈنگ عراق میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں