بلوچستان کے مختلف علاقوں میں افغان طالبان کے پرچموں کی فروخت

کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک کے علاوہ بعض دیگر علاقوں میں افغان طالبان کے پرچم فروخت کے لیے نظر آ رہے ہیں۔

کچلاک میں بعض ریڑھیوں اور دکانوں پر افغان طالبان کے پرچم دکھائی دیتے ہیں۔

ادھر وزیرستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع ژوب میں ایک دکان پر افغان طالبان کے پرچموں کی موجودگی کی تصویر سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرتی ہوئی نظر آئی ہے۔

جب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو سے فون پر رابطہ کر کے مختلف علاقوں میں افغان طالبان کے پرچموں کی فروخت کے حوالے سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کریں گے۔

کچلاک کہاں واقع ہے؟

کچلاک ضلع کوئٹہ کا حصہ ہے اور یہ کوئٹہ شہر کے شمال میں 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس علاقے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں جہاں ایک ریڑھی اور دکان پر 14 اگست کی مناسبت سے پاکستانی پرچم بڑی تعداد میں نظر آ رہے ہیں وہاں ان کے ساتھ افغان طالبان کے پرچم بھی موجود ہیں۔

بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کے لیے کہ واقعی کچلاک میں افغان طالبان کے پرچم فروخت ہورہے ہیں یا نہیں، بعض مقامی لوگوں سے رابطہ کیا تو اُنھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ افغان طالبان کے پرچم فروخت ہو رہے ہیں۔

سابق سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے بعد بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد آئی تھی۔

ان میں سے بہت سارے لوگ مختلف اوقات میں افغانستان واپس چلے گئے لیکن اب بھی جن علاقوں میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد موجود ہے ان میں کچلاک کا علاقہ بھی شامل ہے۔

اسی طرح ژوب کے حوالے سے بھی ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں ژوب کے بازار میں ایک دکان پر افغان طالبان کے پرچم دکھائی دے رہے ہیں۔

ژوب کوئٹہ کے شمال مشرق میں ایک سرحدی ضلع ہے جس کی سرحدیں وزیرستان کے علاوہ افغانستان سے بھی ملتی ہیں۔

جب 90 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو اس وقت بھی جہاں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ان کی حمایت میں مظاہرے ہوئے تھے وہاں ان کے پرچم اور ان کے ترانوں پر مشتمل آڈیو کیسٹس اور رسالے فروخت ہوتے رہے ہیں۔

اسی طرح افغانستان میں جب امریکہ اور نیٹو ممالک کی افواج نے طالبان کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تو اس وقت ان حملوں کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے تھے۔

تاہم امریکی اور نیٹو افواج کے حملوں کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کے پرچم اور دیگر اشاعتی مواد نظر آنے کا سلسلہ بند ہو گیا تھا۔

اب جبکہ طالبان، امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد دوبارہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں کنٹرول حاصل کر رہے ہیں تو ان کے پرچم ریڑھیوں اور دکانوں پر فروخت کے لیے نظر آ رہے ہیں۔

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

جب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو سے فون پر رابطہ کر کے ان سے مختلف علاقوں میں افغان طالبان کے پرچموں کی فروخت کے حوالے سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ ایسی بات ان کے علم میں نہیں ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کریں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کوئی ایسی بات ہوئی تو ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو افغان طالبان کے پرچم فروخت کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں