طالبان نے یقین دلایا ہے افغان سرزمین ٹی ٹی پی کو استعمال کرنیکی اجازت نہیں دی جائیگی، وزیر داخلہ شیخ رشید

اسلام آباد (ڈیلی اردو) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے یقین دلایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے فقیر محمد اور کچھ افراد رہا ہوئے ہیں، اس سلسلے میں حکومت پاکستان وہاں کی متعلقہ قوتوں سے رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایسا وقت آگیا ہے کہ پاکستان کا انتہائی اہم کردار ہوگیا ہے، ہم نے امریکی شہریوں کا بھی وہاں سے انخلا کیا ہے کیوں کہ ہمارے پاس دنیا کے دل جیتنے کا موقع ہے۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے ساتھ کھڑا ہے، افغانستان کے بارے میں دنیا کی جو خواہشات اور توقعات ہیں ہماری بھی وہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو۔

’سی پیک کے خلاف بین الاقوامی سازشیں ہورہی ہیں‘
شیخ رشید نے مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ملک کی ترقی کی شہ رگ اور زینہ ہے، جس کے خلاف بین الاقوامی سازشیں ہورہی ہیں، بعض دستانے پہنے ہوئے ہاتھ نہیں چاہتے کہ پاکستان سی پیک میں آگے جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے موجودہ حالات کے باعث سی پیک بہت اہم ہوگیا ہے اور حکومت کا یہ وعدہ ہے کہ سی پیک کو آگے لے کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، سی پیک میں کام کرنے والی 40 کمپنیوں کو فوج نے سیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے لیکن گزشتہ ایک ماہ میں پیش آنے والے واقعات مثلاً داسو بس حملہ، سرینا ہوٹل حملہ، فشر کالونی کے واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ لوگ ہماری دوستی، ترقی کی راہ میں ان لوگوں کی جانوں سے کھیلنا چاہتے ہیں جو نہ صرف پاکستان کے دوست ہیں بلکہ خیر خواہ ہیں۔

شیخ رشید نے بتایا کہ گزشتہ روز چینی سفیر کے ساتھ ملاقات میں ان کو یقین دلایا ہے کہ چینی شہریوں کو ہر قسم کی مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، جس پر پاکستان کے تمام ادارے کام کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے چینی باشندوں کے خلاف حالیہ حملوں کے کچھ ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں اور کچھ کے بارے میں ہمارے پاس معلومات ہیں، پاکستانی ایجنسیاں چاروں کیسز کی تہہ تک پہنچ چکی ہیں۔

’لوگوں کو کابل ایئرپورٹ پہنچانا ہماری ذمہ داری نہیں‘

انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ مزید ویزے جاری کرنے کے لیے اپنی صلاحیت میں اضافہ کررہی ہے اور طورخم بارڈر سے بھی لوگوں کو لارہے ہیں، اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز کابل ایئرپورٹ بنا ہوا ہے، لوگ ہم سے یہ توقع کررہے ہیں کہ ہم مختلف مقامات سے لوگوں کو اکٹھا کر کے کابل ایئرپورٹ میں داخل کریں یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بھی وزارت داخلہ کی ذمہ داری صرف طورخم بارڈر تک ہے، باقی وہ جانے اور ان کا کام جانیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے بارے میں فی الوقت کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن جو سرحد پر آرہا ہے اسے ہم سہولت فراہم کررہے ہیں، پہلے ہی ہمارے پاس 30 سے 40 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں، اس وقت ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چمن بارڈر کے ذریعے ایک ہزار 270 غیر ملکیوں نے اب تک امیگریشن کروائی ہے جس میں افغان شہری بھی شامل ہیں اور 874 افراد طورخم کے راستے پاکستان آئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ وزیراعظم کی ہدایت پر دیگر وزارتوں کے ساتھ مل کر پورے پاکستان کے لیے ایک ہیلپ لائن بنانے جارہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض ممالک نے ٹرانسپورٹ اور دیگر کاموں کے لیے اپنے جہاز پاکستان میں کھڑے کرنے کی اجازت مانگی ہے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ افغانستان سے آنے والے بین الاقوامی اداروں کے عہدیداران اور سفارتکاروں کو ایک ماہ کا ویزا دیا جارہا ہے، جن لوگوں کے ویزوں کی معیاد ختم ہوگئی ہے انہیں 30 اگست تک جرمانے کی معافی دی گئی ہے، وہ ویزوں کے لیے آن لائن اپلائی کریں اور اس ملک سے نکل جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں