پاکستان علماء کونسل کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام علماء مشائخ کنونشن نے عالمی سطح پر افغان طالبان کو تنہا نہ چھوڑنے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام علماء و مشائخ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت وزیر اعظم کے معاون خصوصی حافظ طاہر محمود اشرفی نے کی۔ اس موقع پر علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہاگیاکہ افغانستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔

اعلامیہ میں افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے طالبان کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں وہ افغانستان کو اس صورت میں تنہا نہ چھوڑیں۔ عافیہ صدیقی آج بھی امریکہ میں قید ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فوری رہا کیا جائے یہ عمران خان کے بھی دل کی آواز ہے۔

علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ افعانستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کا موقف درست سمت اور عوامی امنگوں کے مطابق ہے۔ ہندوستان پاکستان کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی سازشیں کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کو قومی معاملے پر قومی مفاہمت کی دعوت دیتے ہیں۔

علماء و مشائخ کانفرنس نے حرمین شریفین پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے او آئی سی کو کردار ادا کرنے کیلئے فوری اجلاس بلاکر پر افغانستان کے معاملے پر متفقہ موقف اپنانے کا مطالبہ کیا۔ علما و مشائخ نے جمعہ کو یوم وحدت کے طور پر منانے کا اعلان بھی اعلان کیا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہے؟

پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جن پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔

مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں تھی۔

عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے معاملے میں نیا موڑ اُس وقت آیا جب امریکا نے 5 سال بعد یعنی 2008 میں انہیں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔

امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائنائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔

دوسری جانب جب عافیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی افسران نے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کر دی لیکن جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں۔

بعدازاں عافیہ صدیقی کو امریکا منتقل کیا گیا، ان پر مقدمہ چلا اور 2010 میں ان پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد کرنے کے بعد 86 برس قید کی سزا سنا دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں