چین نے افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

بیجنگ (ڈیلی اردو/شِنہوا) چین نے افغانستان میں امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے گزشتہ 20 سالوں میں عام شہریوں کے قتل عام کی مکمل تحقیقات اور قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے بدھ کو روزانہ کی نیوز بریفنگ میں امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے دوران حالیہ شہری ہلاکتوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کیا۔

اطلاعات کے مطابق 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ کے قریب دہشت گردی حملے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ کچھ زخمی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے دھماکے کے بعد لوگوں پر فائرنگ کی جس سے مزید جانی نقصان ہوا۔

اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 29 اگست کو افغانستان میں امریکی فوج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بنیاد پر کابل میں ایک رہائشی عمارت پر ڈرون حملہ کیا جس میں دو سالہ بچے سمیت دس شہری ہلاک ہوئے۔

وانگ نے کہا کہ چین نے ان رپورٹس کو دیکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں عام شہریوں کا قتل اکثرہوتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر 2002 میں، امریکی فوج کے فضائی حملے میں صوبہ ارزگان میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے درجنوں افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔

ان حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور 2008 میں امریکی فوج کے فضائی حملے میں صوبہ ہرات کے ایک گاؤں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 50 بچوں اور 19 خواتین سمیت تقریباً 100 شہری ہلاک ہوئے۔

2010 میں نیٹو کے صوبہ دایکنڈی میں فضائی حملے میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے۔

2012 میں، برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے چار امریکی فوجیوں کی جانب سے طالبان اہلکاروں کی لاشوں کی قابل مذمت طریقے سے بے حرمتی کرنے کی ویڈیو جاری کی۔

2015 میں، افغان اینٹی نارکوٹکس پولیس فورس پر نیٹو فوجیوں نے اس وقت حملہ کیا جب وہ ایک کارروائی میں مصروف تھے، اس حملے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

2019 میں صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں کم از کم 30 افغان کسان ہلاک ہوئے۔

وانگ نے کہا کہ امریکی فضائی حملوں سے افغانستان میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی تعداد امریکی حکومت کے سرکاری اعلان سے کہیں زیادہ ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل 2020 تک کم از کم 47 ہزار 245 افغان شہری امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی افغان جنگ میں مارے گئے۔

ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ امریکی فوجی افغانستان سے نکل گئے ہیں تاہم افغان شہریوں کے قتل عام کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں