افغانستان: پنجشیر میں طالبان اور مزاحمتی فورس میں گھمسان کی لڑائی جاری

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستانے کی وادی پنجشیر میں شدید لڑائی جاری ہے، طالبان نے امرللہ صالح کے ٹھکانے کا محاصرہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وادی پنج شیر میں شدید لڑائی جاری، طالبان نے پریان اور خنج کے بعد انابہ کے اضلاع پر بھی قبضہ کر لیا، فورسز نے صوبائی دارالحکومت بزارک میں داخل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، طالبان نے دعویٰ کیا کہ افغان نائب صدر امراللہ صالح کے ٹھکانے کا محاصرہ کرلیا، کچھ علاقوں میں لڑائی ہو رہی ہے، جلد فتح حاصل کر لیں گے۔

دوسری جانب ایڈیٹر امریکی لانگ وار جرنل کے مطابق پنجشیر میں کئی اضلاع پر طالبان کے قبضے کی اطلاعات ہیں تاہم یہ تصدیق شدہ نہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے امر اللہ صالح نے کہا کہ ’ یہ اطلاعات کہ میں ملک چھوڑ چکا ہوں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ میں یہاں ہوں اور ہم نے صورتحال کے حوالے سے بہت میٹنگز کی ہیں، صورتحال مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم طالبان اور ان کے القاعدہ اتحادیوں، خطے اور باہر سے موجود دہشت گرد گرہوں اور ہمیشہ کی طرح انھیں پاکستان کی پشت پناہی ہے کے حملوں کی زد میں ہیں۔

امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ ہم نے زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، ہم مزاحمت کر رہے ہیں۔

’مزاحمت ہتھیار نہیں ڈالے گی، دہشت گردی کے سامنے جھکے گی۔ یہ جاری رہے گی، مشکلات ہیں لیکن میں بھاگا نہیں ہوںں فرار نہیں ہوا۔‘

سابق نائب صدر نے مزید کہا کہ میں اس ویڈیو کے ذریعے آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت کچھ کہا جائے کہ میں زخمی ہوں یا فرار ہو گیا ہوں بے بنیاد اور جھوٹی خبریں ہیں۔‘

مزاحمتی تحریک کے ترجمان فہیم دشتی نے کہا ہے کہ پہاڑ پر دھماکے کی وجہ سے دشتِ ریوت کے علاقے میں طالبان کو محصور کر دیا ہے۔ طالبان کی تمام گاڑیاں اور سامان پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ خاواک کراسنگ بھی منقطع ہو چکی ہے۔

طالبان نے اس سے قبل وادی پنجشیر کے دو اضلاع پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

طالبان اور مزاحمتی اتحاد دونوں کے تازہ دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

پنجشیر افغانستان کا آخری صوبہ ہے جو طالبان کے کنٹرول سے باہر ہے اور حالیہ دنوں میں وہاں محاذ مزاحمت اور طالبان کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔

افغانستان کے نجی ٹیلی ویژن طلوع نیوز کے مطابق حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کے قریبی ذرائع نے طلوع نیوز کو تصدیق کی کہ پاکستان کے انٹیلیجنس چیف جنرل فیض حمید نے کابل میں حکمت یار سے ملاقات کی ہے۔

طلوع نیوز کے مطابق اس ملاقات میں افغانستان میں مخلوط حکومت پر بات چیت کی گئی ہے۔

وزارت دفاع کے ذرائع نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دورے سے متعلق بی بی سی کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک روزہ دورہ طالبان کے دعوت پر کیا گیا ہے۔ دورے کے دوران کابل میں پاکستان کے سفیر سے ملاقات کے علاوہ ’طالبان کے نمائندوں‘ سے ملاقات بھی طے تھیں۔

ذرائع کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد ’دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان کو موصول ہونے والی وہ درخواستیں ہیں جن میں ان ممالک کے شہریوں اور اداروں کے ملازمین کے محفوظ انخلا میں مدد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘

پاکستان کے عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی جی آئی سی آئی کی ملاقات طالبان کی قیادت سے ہوئی ہے تاہم طالبان کی جانب سے اس ملاقات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق ’طالبان نمائندگان سے ملاقات میں غیر ملکی اور بعض افغان شہری جو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں، کے پاکستان کے راستے انخلا کے لیے مشترکہ میکنزم تیار کرنے پر بات چیت کی گئی تاکہ افغان اتھارٹیز کے ساتھ مل کر ان شہریوں کا پاکستان کے راستے انخلا ممکن بنایا جا سکے۔‘

واضح رہے کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک، خصوصا ’نیٹو ممالک نے پاکستان سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی افغان وفد سے ملاقاتوں میں ’پاک، افغان سرحد کے معاملات بھی زیربحث آئے ہیں۔ ان میں خاص طور پر ان افراد کی آمد ورفت پر بات کی گئی جو روزانہ کی بنیاد پر سرحد کے آرپار نقل وحرکت کرتے ہیں۔ یہ بھی غور کیا گیا کہ اس امر کو یقیینی بنایا جائے کہ صرف وہی افراد سرحد پار کر سکیں جنھیں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔‘

ذرائع کے مطابق طالبان نمائندوں اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے درمیان ملاقات میں یہ معاملہ بھی زیربحث آیا کہ کیسے ’تخریب کاروں اور دہشت گرد گروہوں کو افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا جائے۔‘

واضح رہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان طالبان حکومت سازی کی کوشش کر رہے ہیں اور طالبان سمیت دیگر اتحادی گروہوں میں حکومت سازی کے معاملے پر اختلاف رائے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل فیض حمید کا دورہ، افغان طالبان کی صفوں میں انھی اختلافات کو ختم یا کم کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔

پاکستان، خصوصاً آئی ایس آئی سے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ یہ طالبان پر اثرورسوخ رکھتی ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ ایسے کسی بھی اثرورسوخ کے الزامات کو رد کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں