معمر قذافی کے بیٹے سعد قذافی کو جیل سے رہا کر دیا گیا

طرابلس (ڈیلی اردو) لیبیا کی حکومت نے مقتول رہنما معمر قذافی کے بیٹے کو جیل سے رہا کر دیا ہے۔ پیر کو جاری کیے گئے ایک حکومتی بیان کے مطابق سعد قذافی کو ان کی رہائی کا حکم نامہ جاری ہونے کے دو برس بعد آزاد کر دیا گیا ہے۔ 2011 میں نیٹو اتحادی مشن کی مداخلت کے نتیجے میں سعد ہمسایہ ملک نائجر فرار ہو گئے تھے جبکہ ان کے والد معمر قذافی کو اسی برس اکتوبر میں باغیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ سن 2014 میں سعد کو طرابلس حکومت کے حوالے کر دیا گیا تھا اور وہ تب سے حراست میں تھے۔

رپورٹس کے مطابق لیبیا کے سابق سربراہ کرنل معمر قذافی کا بیٹا ساعدی قذافی ترکی پہنچ گیا ہے۔

مقتول قذافی کے بیٹے الساعدی قذافی کی رہائی کے بعد کرنل معمر قذافی کے بھیدوں اور رازوں سے واقف ان کے دست راست احمد رمضان کوبھی رہا کر دیا گیا ہے۔ احمد رمضان کرنل قذافی کے انفارمیشن آفس کے ڈائریکٹر کے طورپرکام کرتے رہے ہیں۔ احمد رمضان سات سال تک طرابلس کی ایک جیل میں قید تھے۔ ان کی رہائی سے قبل یہ اطلاعات آئی تھیں کرنل قذافی کے بیٹے ساعدی قذافی کو بھی رہا کردیا گیا ہے اور وہ لیبیا سے ترکی روانہ ہوگئے ہیں۔

لیبیا کی صدارتی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ احمد رمضان اور متعدد سیاسی قیدیوں کی رہائی جامع قومی مفاہمتی عمل کا نتیجہ ہے۔ صدارتی کونسل نے ایسے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا تھا جواپنی سزا پوری کرچکے ہوں۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی لیبیا میں انسانی حقوق پرعمل درآمد اور ملک میں انصاف کا بول بالا کرنے کی کوشوں کا حصہ ہے۔

احمد رمضان قذافی کے خفیہ روازوں سے واقف اور ان کےدست راست تھے۔ انہوں نے پرائیویٹ سیکرٹری اور ان کے انفارمیشن آفس کے ڈائریکٹر کے طورپر خدمات انجام دیں۔ وہ 1969 سے قذافی کی حکومت کے خاتمے تک ان کے ساتھ رہے۔

احمد رمضان کی رہائی سے قبل سعدی معمر قذافی کی رہائی کے چند گھنٹوں بعد عمل میں لائی گئی۔ دو سال قبل لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل نے سعدی قذافی اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا تھا۔ رہائی کے بعد سعدی قذافی ترکی روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ اپنے خاندان سے ملیں گے۔

صدارتی کونسل کی زیر قیادت مفاہمتی عمل کے تحت توقع ہے کہ مقتول کرنل قذافی کے قریبی ساتھی عبداللہ السنوسی کو بھی رہا کیا جائے گا۔ وہ 2012 سے جیل میں ہیں۔ عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے عبداللہ السنوسی کی رہائی کا فیصلہ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں