کابل میں افغان خواتین اور نوجوانوں کا احتجاج، پاکستان مخالف نعرے بازی، طالبان کی مظاہرین پر فائرنگ

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغان دارالحکومت کابل کی سڑکوں پر اس وقت ایک احتجاجی مارچ جاری ہے جس میں افغان خواتین اور نوجوان اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف نعرے بازی بھی کر رہے ہیں۔

احتجاج میں شامل افراد ’اللہ اکبر، ہم ایک آزاد ملک چاہتے ہیں، ہمیں پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت نہیں چاہیے، پاکستان افغانستان سے نکلو‘ جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔

یہ مظاہرین صدارتی محل کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم طالبان جنگجو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔

کابل میں طالبان کی جانب سے خواتین پر تشدد بھی کیا گیا

طلوع نیوز کی صحافی زہرہ رحیمی کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے احتجاج میں حصہ لینے والے صحافیوں اور کیمرہ مین کو گرفتار کر لیا ہے۔

طلوع نیوز کے ڈائریکٹر لطف اللہ نجفی زادہ نے ٹویٹ کی کہ میڈیا کے کیمرے ضبط کر لیے گئے ہیں، صحافیوں کو فلم نہ بنانے کے لیے کہا جا رہا ہے اور کچھ کو روکا جا رہا ہے۔ لیکن مظاہرین نے بندوق کی نوک پر کابل میں مارچ جاری رکھا۔

وہ پوچھتے ہیں کہ ’احتجاج کرنے کی آزادی اور احتجاج کے بارے میں خبر دینے کی آزادی کہاں ہے؟‘

سوشل میڈیا پر مظاہرے میں شامل چند صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے انھیں روکنے کے لیے مارا پیٹا اور ان کے کیمرے توڑ دیے۔

گذشتہ رات کابل سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں بھی کئی افراد کو ’قومی مزاحمتی محاذ زندہ باد‘ اور پاکستان مخالف نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔

گذشتہ روز احمد مسعود نے ایک آڈیو پیغام میں افغان عوام سے کہا تھا کہ وہ پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملگ گیر قومی بغاوت شروع کریں۔

مسعود نے کابل اور مزار شریف میں خواتین کے احتجاج کو اس مزاحمت کی مثالیں قرار دیا تھا۔ انھوں نے افغانستان کے باہر طالبان کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی بھی تعریف کی تھی۔

کابل میں حالیہ دنوں میں کئی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ کچھ افراد نے افغانستان کے پرچم کو اتارنے کے خلاف احتجاج کیا اور حالیہ دنوں میں خواتین نے بھی مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔

گذشتہ روز صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں خواتین کے ایک گروپ نے اپنے حقوق اور آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی تھی۔

مظاہرین نے بلخ کی صوبائی انتظامیہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ طالبان اپنی حکومت میں افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔

ریلی کے شرکا میں سے ایک نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اگرچہ مارچ پرامن تھا، طالبان کے ارکان نے انھیں اور صحافیوں کو مارنے کی دھمکیاں دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں