افغانستان میں طالبان کی واپسی پر ہندو اور سکھ برادریوں پر کڑا وقت

کابل (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) افغانستان میں آباد ہندوؤں اور سکھوں کو طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر یقینی اور شدید تشویش کا سامنا ہے۔ طالبان نے اقلیتوں کو تحفظ کا یقین تو دلایا ہے مگر ماضی کے تجربات ان کو انتہائی محتاط رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

گزشتہ برس یعنی 2020ء میں کابل کے ایک گرد وارے پر ہونے والے داعش کے مسلحہ جنگجوؤں کے حملے میں کم از کم 21 سکھ عقیدت مند ہلاک ہوئے تھے۔

کابل کے ایک محلے کارتے پروان میں قائم سکھوں کے گوردوارے دشمش پیٹا میں پناہ لیے ہوئے افغان سکھ اور ہندو کئی ہفتے بعد اب ملک کے مختلف حصوں میں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ افغانستان میں سویلین حکومت کے خاتمے اور کابل سمیت ملک کے قریب تمام حصوں میں طالبان کے قبضے کے بعد ہندو کش کی اس ریاست میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کی زندگیوں کو ایک مرتبہ پھر خطرات اور انتشار کا سامنا ہے۔

افغانستان سے سکھوں کا انخلاء

اس وقت افغانستان میں قریب 250 ہندو اور سکھ باشندے موجود ہیں۔ کابل ایئرپورٹ سے نزدیک ہونے والے خود کُش بم حملے کے بعد بھارتی فوجی انخلاء کی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کرنے والے ہندو اور سکھوں میں سے 140 کے قریب ہوائی اڈے تک رسائی حاصل نہیں کرسکے تھے۔ طالبان کے زیر اقتدار شہر کابل سے نکلنے کے لیے کوئی فلائٹ دستیاب نہیں ہے۔ اب یہ مذہبی اقلیتی گروپ غیر یقینی مستقبل کے خوف میں مبتلا ہیں۔

بھارت نے کابل سے آخری امریکی انخلاء طیارے کی پرواز سے پہلے ہی قریب 600 افغان باشندوں کو کابل سے نکال لیا تھا۔ ان میں 67 افغان سکھ اور ہندو شامل تھے۔ افغانستان سے نکلنے والے اس گروپ میں انار کلی ہنریار اور نرندر سنگھ خلسہ بھی شامل تھے۔

کیا ایک غیر مسلم افغان ہوسکتا ہے؟

افغانستان میں سکھوں اور ہندوؤں کی آبادی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ اس ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے بھی یہ لوگ اس خطے میں آباد تھے۔ ‘افغان ہندو اینڈ سکھس‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب کے مصنف اندر جیت سنگھ نے سکھ مذہب کے بانی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا ، ”افغان ہندو اور سکھوں کی تاریخ ہزار سال پرانی ہے۔ جدید دور کے افغانستان میں سکھوں کی تاریخ ان کے مذہب کے بانی گورو نانک کے عہد سے ملتی ہے۔ اس علاقے میں سکھ مذہب کی آمد 16ویں صدی میں ہوئی۔‘‘ اندر جیت سنگھ کا ماننا ہے کہ اس خطے میں ہندو مذہب کی جڑیں اس سے بھی پرانی ہیں لیکن حکومت سے قطع نظر ارباب اقتدار ہمیشہ ان مذاہب کے ماننے والوں کو ” غیر ملکیوں‘‘ کےطور پر پیش کرتے رہے۔ انہیں اپنے آباؤ اجداد کے ملک میں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

جرمنی میں آباد ایک افغان سکھ ماہر بشریات پوجا کوئر مٹا کا کہنا ہے، ”سکھ اور ہندو مقامی لوگ ہیں، غیر ملکی نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان مذہبی گروپوں کی جڑیں کابل اور غزنی میں موجود ہیں۔ بہت سے دیگر سکھ اور ہندوؤں کی طرح پوجا کے والدین 1990ء کے وسط میں طالبان جنگجوؤں کے افغانستان پر قبضے کے بعد ملک ترک کر کے یورپ کوچ کر گئے تھے۔

تاہم 1992ء میں 60 ہزار ہندو اور سکھ افغانستان میں آباد تھے اور یہ تعداد اب کم ہو کر 300 ہو چُکی ہے۔

علیحدہ اور ہراساں کیے جانے کی دھمکی

افغانستان میں برسوں منظم اور ادارہ جاتی امتیازی سلوک کا شکار ہونے والی اقلیتوں نے کابل کی معزول شہری حکومت سے کچھ مساوی حقوق ملنے کی امیدیں لگا رکھی تھیں۔ تاہم 2018 ء اور 2020 ء میں دو بڑے دہشت گردانہ حملوں نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔

قانون ساز خلسہ کے والد بھی 2020 ء میں گوردوارے اور مزار پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 25 سکھ عقیدت مندوں میں شامل تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری داعش سے وابستہ ایک علاقائی گروپ ” اسلامک اسٹیٹ خراساں‘‘ آئی ایس نے قبول کی تھی۔ یہی دہشت گرد گروپ کابل کے حامد کرزئی انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر کم از کم 182 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے حملے کا بھی ذمہ دار تھا۔

طالبان کے اس نئے دور میں سکھوں اور ہندوؤں کو ایک ایسے عہد کی واپسی کا خدشہ ہے جہاں ان اقلیتوں کو اپنی غیر مسلم شناخت ظاہر کرنے کے لیے پیلے رنگ کا ٹیگ لگائے رہنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں