داعش خراسان پاکستان کا امیر فاروق بنگلزئی افغانستان میں مارا گیا

اسلام آباد (ش ح ط) سندھ کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں ملوث داعش خراسان بلوچستان کا امیر فاروق بنگلزئی افغانستان میں مارا گیا۔

اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی کا سابق اور داعش بلوچستان کا امیر فاروق بنگلزئی عرف سائیں کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے جن کی لاش افغانستان کے ایران سے ملحقہ سرحدی صوبہ نیمروز کے شہر زرنج سے ملی ہے۔

ذرائع کے مطابق فاروق بنگلزئی نے کئی بم دھماکوں اور ہلاکتوں کا اعتراف کیا، فاروق بنگلزئی نے بلوچستان میں شیعہ ہزارہ، عیسائی برادری اور پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ بلوچستان میں ہزارہ کان کنوں کا قتل بھی فاروق بنگلزئی کے حکم پر کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فاروق بنگلزئی داعش میں شامل ہونے سے پہلے لشکر جھنگوی کیلئے کام کرتا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کالعدم لشکر جھنگوی بلوچستان کا سربراہ تھا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کالعدم تنظیم کے اس عہدے پر وہ کب فائز ہوا۔

خیال رہے کہ 16 فروری 2017 کو سندھ کے صوفی بزرگ حضرت سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے کے نتیجے میں تین ہندو عقیدت مندوں سمیت 87 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 400 کے قریب افراد زخمی ہو گئے تھے۔ چھ افراد کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں لاوارث قرار دیکر ایدھی حکام نے دفنا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں