حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی کی پیشکش کر دی

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو معافی کی مشروط پیشکش کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کالعدم تحریک طالبان کے اراکین کو معاف کرنے کے لیے حکومت اس وقت ‘تیار’ ہوگی، اگر وہ وعدہ کریں کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے اور آئین پاکستان کو تسلیم کریں۔

ایک غیر ملکی اخبار ‘انڈیپنڈنٹ’ کو اپنے انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کالعدم ٹی ٹی پی کے رہنماوں کی رہائی سے متعلق رپورٹس پر تحفظات کا اظہار کیا۔

شاہ محمود قریشی نے افغان حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ ٹی ٹی پی سے بات کرے ۔

شاہ محمود قریشی نے ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں ختم نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اپنے انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے ٹی ٹی پی کو ہتھار ڈالنے کی مشروط پیشکش کی اور کہا اگر ‘ٹی ٹی پی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو، حکومت اور آئین پاکستان کی رٹ کے سامنے ہتھیار ڈالے تو ہم یہاں تک ان کو معافی کے لیے تیار ہیں’۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی رہنماوں کی رہائی سے معصوم لوگوں کی جانوں پر اثر پڑے گا اور وہ ایسا نہیں چاہتے ۔

انہوں نے انٹرویو میں اشرف غنی کو ٹی ٹی پی سے متعلق نشان دہی کا بھی حوالہ دیا اور شکوہ کیا کہ اشرف غنی نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔

اس موقعے پر انہوں نے افغان طالبان کی جانب سے کرائی گئی زبانی یقینی دہانی کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ افغان طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے اندر کسی گروپ کو دہشت گردی کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے نئی طالبان قیادت کا رویہ 1990 کی دہائی کے مقابلے میں مختلف قرار دیا اورکہا اب کابل میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو برداشت کیا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان مہاجرین کیلئے کسی کیمپ کی سہولیت کی بھی تردید کی اور کہا کہ مصدقہ دستاویزات والے افراد کو انخلا کی سہولت دی جائیگی۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں