داسو خودکش حملہ: دو ماہ بعد بھی چینی کمپنی کام شروع کرنے سے مسلسل انکاری

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) داسو پاور پراجیکٹ کے قریب دھماکے کے دو ماہ گزرنے کے باوجود بھی منصوبے پر کام تاحال بحال نہیں ہو سکا اور چینی کمپنی کام شروع کرنے سے انکاری ہے۔

واپڈا ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین کی متاثرہ کمپنی گیژوبا گروپ کارپوریشن نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے نو چینی انجینیئرز کا معاوضہ مانگا ہے جس کی ادائیگی اور بعض دیگر معاملات طے نہ ہونے پر کمپنی کام شروع کرنے سے مسلسل انکار کر رہی ہے تاہم امید ہے کہ حکومت پاکستان معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سے جلد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔

یاد رہے کہ 14 جولائی کو خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے قریب چینی انجینیئروں کی بس پر ’حملے‘ میں چینی انجینیئروں سمیت کم از کم 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے واقعے میں دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔

یہ چینی انجینئیرز اور دیگر عملہ دو بسوں میں معمول کے مطابق صبح کی شفٹ میں داسو ہائڈرو پاور پراجیکٹ پر اپنے کام پر جا رہے تھے۔

دوسری جانب اہل علاقہ نے کہا ہے کہ علاقے میں چیک پوسٹوں پر پولیس کی تعیناتی کے حوالے سے ان کا مطالبہ مان لیا گیا ہے اور اب چیک پوسٹوں پر صرف پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار موجود ہیں۔

ڈی سی کوہستان عارف خان کا کہنا ہے کہ 14 جولائی کے حملے کے بعد بھی ضلع کی چیک پوسٹوں پر فوج تعینات ہی نہیں کی گئی تھی اس لیے اس حوالے سے کسی اعتراض کا جواز ہی نہیں بنتا۔

واضح رہے کہ داسو پراجیکٹ کے کارکنوں پر حملے کے بعد علاقے میں فوج کی آمد کے معاملے پر مقامی لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ضلع میں فوج کی تعیناتی کے حوالے سے ان کے ساتھ کوئی مشورہ نہیں کیا گیا اور اس تعیناتی سے ان کے ہاں بعض مشکلات پیدا ہوں گی جن میں سب سے زیادہ تشویش کا باعث چیک پوسٹوں پر تلاشی کا عمل ہو گا۔ مقامی افراد کا مطالبہ تھا کہ ان چیک پوسٹوں پر صرف پولیس ہی تعینات رہے۔

چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کے حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا وہ داسو پراجیکٹ پر کام کی بحالی کے لیے متعلقہ کمپنی گیژوبہ کے ساتھ بات چیت کے تقریباً 10 ادوار کر چکے ہیں اور کمپنی کو پاکستانی حکومت کے موقف سے بھی آگاہ کر چکے ہیں۔

پراجیکٹ پر چینی کمپنیوں کے کام شروع کرنے اور معاوضے کے مطالبے سے متعلق بی بی سی کے سوالوں کے جواب میں واپڈا ترجمان کا کہنا تھا کہ داسو پراجیکٹ پر کام کرنے والی دیگر چار چینی کمپنیاں اپنا کام شروع کر چکی ہیں جبکہ حملے کی زد میں آنے والے کارکنوں کی کمپنی گیژوبہ نے ابھی کام شروع نہیں کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ داسو جیسے منصوبوں کے کنٹریکٹ میں اس نوعیت کے حادثات میں ہلاک ہونے والوں کے لیے معاوضے کی گنجائش موجود ہوتی ہے تاہم اس بابت چینی کمپنی کو معاوضے کی ادائیگی کا فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی اور امید ہے حکومت جلد ہی یہ فیصلہ کر لے گی۔

واپڈا ترجمان کا کہنا تھا کہ جس کمپنی کے انجینئرز اس حملے میں مارے گئے ہیں ان کارکنوں کا متبادل تلاش کرنے میں بھی وقت لگ سکتا ہے جبکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک جامع سیکورٹی پلان بنایا جا چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت بھی اس معاملے پر چینی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا جاسکے جبکہ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کی سربراہی میں قائم سٹیئرنگ کمیٹی بھی تعمیراتی کام دوبارہ شروع کرنے کے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

بی بی سی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی سی کوہستان عارف خان کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ پر بھرپور تعمیراتی کام شروع ہونے کے بعد سکیورٹی کو بھی مزید بڑھایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی فوج علاقے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تو موجود ہے لیکن اسے قراقرم ہائی وے پر تعینات نہیں کیا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہائی وے پر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری چیک پوسٹوں پر موجود ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کوہستان کے ملک میر ہزار خان کا کہنا تھا کہ ان کا علاقہ پرامن ہے اور یہاں پر مقامی لوگ اور پولیس مل کر حالات کو قابو کر سکتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوج کی تعیناتی کی بجائے مقامی افراد اور پولیس کو موقع دے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امن پسند لوگ ہیں، حالات کو سنبھالنے کے لیے مقامی افراد اور پولیس ہی کافی ہیں کیونکہ مقامی لوگ کسی بھی اجنبی کے بارے میں پولیس کو خود ہی بروقت اطلاع دیتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سال 2008 سے 2010 کے دوران اپنے ہاں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یہ کردار بہت اچھے طریقے سے ادا کر چکے ہیں اس لیے یہاں کسی اجنبی کے لیے چھپنا آسان نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹوں پر فوج کی تعیناتی کے باعث پیدا ہونے والی بعض مشکلات کی بنیاد پر اپنے علاقے میں بھی فوج کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی۔

میر ہزار خان کا کہنا تھا کہ انھیں فوج کی جانب سے بعض یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں تاہم انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔

ملک میر ہزار خان کا کہنا تھا کہ ان کے مسلسل مطالبات کے بعد گذشتہ دنوں جو فوج ضلع میں آئی تھی وہ واپس چلی گئی اور اب انھیں چیک پوسٹوں کے حوالے سے درپیش خدشات نہیں رہے۔

ملک میر ہزار خان کے اس دعوے کے بارے میں ڈی سی کوہستان عارف خان کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ فوج کو قراقرم ہائی وے پر تعینات کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج علاقے میں کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے موجود ہے اور وہ کہیں نہیں گئی۔

واپڈا ترجمان سے اس سوال کی بابت پوچھا گیا تو ان کا بھی کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ انتظامیہ اور اہل علاقہ کے مابین بات چیت کے بعد فوج کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں