ایرانی جوہری سائنسدان قتل کیس: مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے

یروشلم (ڈیلی اردو) اسرائیل کی جانب سےگذشتہ برس نومبر میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو قتل کرنے کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایرانی سائنسدان کو قتل کرنے کے لیے روبوٹ مشین استعمال کی تھی۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی، اسرائیلی اور ایرانی حکام نے بھی روبوٹ مشین کے ذریعے محسن فخری زادہ کے قتل کی تصدیق کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی سائنسدان کو قتل کرنے کے لیے روبوٹک اسنائپر گن ایک ہزار میل دور رکھی گئی تھی، اسرائیل نے روبوٹک گن کے پرزے مختلف ذرائع سے ایران اسمگل کیے اور ان پرزوں کو پک اپ ٹرک میں نصب کیا گیا۔

ٹرک کے مختلف اطراف کیمرے لگائے گئے تھے، ٹرک میں نصب روبوٹک مشین گن کو سیٹلائٹ سے کنٹرول کیا گیا، مشن مکمل ہونے کے بعد ٹرک کو نصب بارودی مواد سے اڑا دیا گیا۔

خیال رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر 2020 کو تہران میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

اس سے قبل برطانوی اخبار جیوئش کرونیکل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی سائنسدان کے قتل میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ملوث ہے، اخبار نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ موساد کے ایجنٹوں نے مختلف ٹکڑوں میں اسمگل کی گئی ون ٹون گن کے ذریعے محسن فخر ی زادہ کو قتل کیا۔

انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی اور ایرانی شہریوں پر مشتمل موساد کے تقریباً 20 ایجنٹوں نے تقریباً 8 ماہ نگرانی کے بعد حملہ کرکے ایرانی جوہری سائنسدان کو قتل کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں