طالبان کی جانب سے مسلح بچے کی ویڈیو سرکاری ٹی وی پر نشر

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستان میں طالبان کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری ٹی وی پر ایک مسلح بچے کی ویڈیو نشر کی گئی ہے جو بظاہر ایک جنگجو دکھائی دیتا ہے۔ اس ویڈیو کے انگریزی میں لکھے گئے کیپشن میں درج تھا کہ ‘مستقبل کی نسل کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔’

یہ کلپ اس نو منٹ کی ویڈیو کے آخر میں آتا ہے جس میں امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا اور فتح کا جشن مناتے طالبان جنگجو دکھائے گئے ہیں۔

اس ویڈیو کے ساؤنڈ ٹریک کے بیشتر حصے پر ملک میں نیٹو آپریشن کے خاتمے پر جشن اور اس کے بعد سے عوام کی جانب سے ‘آزادی’ کی خوشیوں سے متعلق مقامی نعرے شامل ہیں۔

اس نو منٹ کی ویڈیو میں زیادہ تر فوٹیج یا تو مختلف خبروں یا طالبان کی پرانی ویڈیوز سے لی گئی ہے۔

اس ویڈیو میں اور کیا ہے؟

یہ ویڈیو شروع ہوتی ہے پندرہ اگست کو افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان جنگجوؤں کے افغان صدارتی محل کے داخلے کے مناظر سے، جس کے بعد امریکی فوجیوں کے طیارے پر بیٹھنے اور انخلا کے مناظر دکھائے گئے ہیں، جس قریب سے امریکی فوج کے یہ مناظر فلمائے گئے ہیں ممکنہ طور پر یہ ویڈیو طالبان نے خود نہیں بنائی۔

اس کے بعد اس ویڈیو میں افغان عوام کے طالبان کے جھنڈے کے ساتھ گلی کوچوں میں نکلنے کے مناظر ہیں۔

اسی طرح کی فوٹیج پوری ویڈیو میں متعدد مرتبہ دکھائی گئی ہے جس پر مخلتف سکرین لوگوز بھی نمایاں ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مناظر پہل کی کسی ویڈیوز سے لیے گئے ہیں۔

اس ویڈیو کے چند مناظر میں طالبان کی بدری 313 یونٹ کے ارکان کابل کی سڑکوں پر گاڑیوں کی چیکنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ طالبان کا یہ ’الیٹ‘ یونٹ ایسی ویڈیوز کا ایک معمول کا حصہ بن گیا ہے جس سے طالبان کے اس دعوے کی تقویت ملتی ہے کہ افغان عوام کا تحفظ ان کی ترجیح ہے۔

اس ویڈیو میں لوگوں کی گفتگو کی بہت ہی کم آواز ہے اور اس کے ساؤنڈ ٹریک پر طالبان کے نعرے ہیں۔ اس ویڈیو میں صرف دو نوجوانوں کی باتیں شامل ہیں جن میں سے ایک کو یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ ‘اب ہم خوش ہیں پہلے ہم رات کو آرام سے سو نہیں سکتے تھے اور اب مجاہدین کے آنے کے بعد سے ہم بے خوف سوتے ہیں۔’

جبکہ دوسرا شخص یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ ‘میں خوش ہوں کیونکہ اب میں رات کو کہیں بھی بے خوف و خطر جا سکتا ہوں، ایک وقت تھا جب ہم رات کو باہر نکلتے تو راہزن ہمیں لوٹ لیتے تھے۔’

اس کے بعد طالبان کے نعروں کے ساؤنڈ ٹریک ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ‘امریکہ، برطانیہ اور نیٹو افواج سب کو بزدلوں کی طرح یہاں سے نکلنے جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ اب روشن صبح کا آغاز ہو گیا ہے، فتح مبارک فتح مبارک۔’

اگلی نسل

یہ ویڈیو نوجوان لڑکوں کے مناظر پر ختم ہوتی ہے جو اسلامی امارات افغانستان کے جھنڈے کے سائے میں دکھائے گئے ہیں اور یہ ویڈیو ختم ہونے سے قبل ایک بچے کو رائفل سے فائر کرتے دکھایا گیا ہے۔

دیگر مناظر کی طرح اس ویڈیو کا یہ کلپ بھی بظاہر کسی پرانی ویڈیو سے لیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے سے قبل کا وقت ہے اور ان مناظر کے نچلے حصے میں کچھ دھندلا پن ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا لوگو ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں