بلوچستان: گوادر میں نصب بانی پاکستان کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا

کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں نصب بانی پاکستان محمد علی جناح کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپیلکن آرمی (بی آر اے) نے قبول کی ہے۔

عسکریت پسند کالعدم تنظیم بلوچ رپیلکن آرمی کے ترجمان بیبگر بلوچ نے ٹوئٹر پر اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے لکھا: ’گوادر میں میرین ڈرائیو پر محمد علی جناح کا مجسمہ ہمارے سرمچاروں نے دھماکہ خیز مواد لگا کر تباہ کر دیا۔‘

ڈی پی او گوادر ڈاکٹر فرحان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح نو بجکر 20 منٹ پر یہ دھماکہ ہوا۔

ڈپٹی کمشنر گوادر میجر ریٹائرڈ عبدالکبیر خان زرکون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بانی پاکستان کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کرنے والے عسکریت پسند سیاح بن کر علاقے میں داخل ہوئے۔

ان کے مطابق ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم ایک دو روز میں تحقیقات مکمل کر کے کارروائی عمل میں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے کو ہر پہلو سے دیکھ رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو پکڑ لیا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا مجسمہ رواں سال جون میں گوادر میں فوج کے جنرل آفیسر کماننڈننگ (جی او سی) کے گھر، اور ڈی آئی جی آفس کے قریب میرین ڈرائیو پر نصب کیا گیا تھا۔ یہ علاقے سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے اور یہاں اس مجسمے کی حفاظت کے لیے ایک سکیورٹی گاڑی تعینات رہتی تھی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ اور موجودہ سینیٹر سرفراز بگٹی نے گوادر میں بانی پاکستان کے مجسمے کو تباہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’ گوادر میں قائد اعظم کے مجسمے کو تباہ کرنے کا مطلب پاکستان کے نظریے پر حملہ ہے۔

میں حکام سے گذارش کرتا ہو کہ اس میں ملوث مجرمان کو اسی طرح سے سزا دی جائے جیسے ہم نے زیارت میں قائد اعظم ریزیڈینسی پر حملہ کرنے والوں کو دی تھی‘۔

یاد رہے کہ جون 2013 میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پُر فضا مقام زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی رہائش گاہ زیارت ریزیڈنسی کو دھماکے تباہ کیا گیا تھا۔ اس وقت اس عمارت کی دیواروں کے سِوا تمام سامان جل کر تباہ ہو گیا تھا۔

جبکہ سیف نامی صارف نے اس واقعے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بطور پاکستانی آج کا دن ہمارے لیے بہت افسوسناک ہے، کوئی کیسے گوادر کی اتنی سکیورٹی والے علاقے تک پہنچ کر ایسا کر سکتا ہے؟ یہاں شہر کے ہر کونے پر فوج موجود ہے۔ اس واقعے میں کوتاہی برتنے پر کسی کو جوابدہ ٹھہرانا ہو گا۔‘

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی افضل ندیم ڈوگر نے بھی بانی پاکستان کے مجسمے کو تباہ کرنے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے گوادر کی سکیورٹی پر سوال اٹھایا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کا الزام ہے کہ بی آر اے کے سربراہ براہمداغ بگٹی اس تنظیم کے سربراہ ہیں اور گزشتہ دنوں حکومت نے ان سے مذاکرات کی بھی کوشش کی تھی۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں