افغانستان: ‏قندوز میں شیعہ مسجد میں خودکش حملہ کرنیوالا کا تعلق ایغور مسلم اقلیتی گروپ سے تھا

کابل (ڈیلی اردو) افغانستان کے شہر قندوز کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 100 ہو گئی ہے۔

جمعہ کے روز ہونے والے اس خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق شیعہ اقلیتی برادری سے بتایا گیا ہے۔

دہشت گرد گروہ داعش نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خودکش حملہ آور کا تعلق ایغور مسلم اقلیتی گروپ سے تھا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکہ اہلِ تشیع کی مسجد میں اس وقت ہوا جب وہاں جمعے کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے افغانستان سے متعلق معاونت کے مشن کا کہنا ہے کہ قندوز میں دھماکے میں ہونے والی بڑی تعداد میں اموات پر شدید تشویش ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ قندوز کے علاقے خان آباد میں ہونے والے دھماکے میں ابتدائی طور پر 100 افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ دھماکہ مسجد کے اندر ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مشن کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ دھماکہ بھی حالیہ دنوں میں ہونے والی دیگر پرتشدد کارروائیوں کی طرح پر کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ایک ہفتے میں یہ تیسرا ہلاکت خیز حملہ ہے جس میں کسی مذہبی مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتوار کو داعش نے کابل میں مسجد کے باہر ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس کے بعد خوست میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق اس حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

افغانستان سے امریکی اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد اس حملے کو سب سے ہولناک حملہ قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو بھی افغانستان میں مسجد میں دھماکہ ہوا تھا۔ دارالحکومت کابل میں مسجد میں ہونے والے دھماکے اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اتوار کو ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا تھا جن طالبان کے عبوری نائب وزیرِ اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ کے انتقال پر اتوار کو کابل کی عید گاہ مسجد میں تعزیتی اجلاس جاری تھا۔

طالبان نے کابل کی مسجد کے باہر ہونے والے دھماکے کے بعد جوابی کارروائی میں داعش کے متعدد ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ دھماکے کے ایک روز بعد پیر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان نے کابل کے شمالی علاقے خیر خانہ میں داعش کے ٹھکانوں پر کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد جنگجو مارے گئے۔

اس سے قبل داعش نے 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی جس میں 169 افغان شہری اور 13 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں