یورپی ملک پولینڈ میں مہاجرین کی حمایت میں ہزاروں افراد کی ریلی

وارساؤ (ڈیلی اردو) یورپی ملک پولینڈ کے دارالحکومت وارساؤ میں ہزاروں افراد نے مہاجرین کو پولینڈ اور بیلاروس کی سرحد پر واپس بھیجنے کے خلاف مظاہرہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق وارساؤ کے وسط سے مارچ کرنے والے مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ‘سرحد پر تشدد بند کرو’ اور ‘کوئی بھی غیر قانونی نہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔

حالیہ مہینوں میں ہزاروں مہاجرین نے، جن میں سے بیشتر کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے، براستہ بیلاروس یورپی یونین کے ممالک پولینڈ، لیٹویا اور لیتھووانیا میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔

نقل مکانی کرنے والے عینی شاہدین اور امدادی گروپوں نے پولینڈ پر الزام لگایا ہے وہ لوگوں کو سرحد کے ذریعے بیلاروس واپس بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وارساؤ میں چند مظاہرین نے ہاتھوں میں موجود تھرمل بلینکٹس بینرز کے ذریعے خبردار کیا کہ مہاجرین کو روکنا سردی کے باعث ان کے لیے موت کا خطرہ بن سکتا ہے۔

مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق پولینڈ کے شہروں میں بھی چھوٹی ریلیاں نکالی گئیں۔

پولینڈ، لیتھووانیا اور بیلاروس حکام کے مطابق یورپی یونین کی مشرقی سرحد پر گرمیوں میں شروع ہونے والی تارکین وطن کی آمد میں اضافے کے بعد 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو پولینڈ کی پارلیمنٹ نے تارکین وطن کو واپس بھیجنے کو قانونی بنانے کے لیے قانون میں تبدیلی کی اور حکام کو اجازت دی کہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کی پناہ کی درخواست کو نظر انداز کریں۔

قانون سازوں کی جانب سرحدی دیوار بنانے کے حکومتی منصوبے کی منظوری بھی دی گئی جس کی لاگت کا تخمینہ 35 کروڑ 30 لاکھ یورو (41 کروڑ ڈالرز) ہے۔

امدادی گروپوں نے پولینڈ کی جانب سے سرحد پر ہنگامی حالات کا اعلان کرنے پر شدید تنقید کی ہے جس کی وجہ سے وہ تارکین وطن کی مدد کرنے سے قاصر ہیں جبکہ صحافیوں سمیت غیر ملکیوں تک رسائی بھی حاصل نہیں کر پارہے ہیں۔

دریں اثنا برسلز نے الزام لگایا کہ بیلاروس نے جان بوجھ کر بارڈر کراسنگز کو بڑھایا ہے اور اس نے ایسا یورپی یونین کی طرف سے اپوزیشن تحریک کے خلاف منسک کی جارحیت پر پابندیوں کے جواب میں کیا ہے۔

یورپی یونین کی سرحدوں پر آنے والے تارکین وطن کو ایک طرف بیلاروس کے محافظین جبکہ دوسری جانب پولینڈ، لیتھووانیا یا لیٹویا کے افسران کی نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں