داعش خراسان کے سربراہ عبداللہ اورکزئی عرف اسلم فاروقی افغانستان میں ہلاک

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کے سربراہ عبداللہ اورکزئی عرف اسلم فاروقی اتوار کو شمالی افغانستان میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق کمانڈر اور داعش خراسان کے سربراہ، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی سے تھا، منظم اغوا کاروں اور جرائم پیشہ مافیا کے خلاف تحقیقات کے دوران مارا گیا۔ تفتیش کے نتیجے میں تصادم ہوا اور اس کے نتیجے میں اسلم فاروقی اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

تاہم، ذرائع بتاتے ہیں کہ IS-K کے رہنما کو عسکریت پسند تنظیم کے اندرونی تنازعہ کے نتیجے میں مارا گیا جسے داعش بھی کہا جاتا ہے۔

اورکزئی سے آئی ایس-کے کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ عسکریت پسند کمانڈر کی لاش منگل تک اس کے آبائی شہر منتقل کر دی جائے گی۔

فاروقی نے 2020 میں ننگرہار میں داعش خراسان کے زوال کے بعد اس وقت کے صدر اشرف غنی کی حکومت کے دوران افغان فورسز کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ بعد میں انہیں داعش خراسان کا سربراہ بنا دیا گیا اور ڈاکٹر شہاب مہاجر نے عسکریت پسند دھڑے کی باگ ڈور سنبھالی۔

اس ماہ کے دوران مارا جانے والا یہ دوسرا ہائی پروفائل عسکریت پسند کمانڈر ہے۔

ایک ہفتہ قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے آپریشنل کمانڈر اور ترجمان خالد بلتی مارا گیا تھا۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے خالد بلتی عرف محمد خراسانی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی۔ 2007 میں انہوں نے سوات میں تحریک نفاذ شریعت محمدی میں شمولیت اختیار کی۔

اسلم فاروقی کون تھا؟

اسلم فاروقی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان کے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع اورکزئی سے تھا۔

ان کا تعلق اپر اورکزئی کے ماموں زئی قبیلے کے ایک بااثر اور مذہبی خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے پر دادا محمود اخونزادہ علاقے کے ایک بااثر مذہبی رہنما اور قبائلی سردار گزرے ہیں، تاہم اسلم فاروقی عرصہ دراز سے لوئر اورکزئی کے صدر مقام کلایہ کے قریب واقع ایک گاؤں لیڑے میں اپنے خاندان سمیت مقیم رہے ہیں جہاں انہوں نے ایک دینی مدرسہ بھی قائم کیا ہوا تھا۔

لیڑے اہل تشیع اور سنی قبائل کے درمیان واقع ایک سرحدی متنازع علاقہ ہے جہاں ماضی میں شیعہ سنی فسادات بھی ہوتے رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ علاقہ شیعہ قبائل کی ملکیت بتائی جاتی تھی تاہم ابتدائی جھڑپوں کے بعد اس علاقے پر سنی قبائل نے قبضہ کرلیا تھا۔ سنیوں کی طرف سے اس لڑائی کی سربراہی ماموں زئی قبیلے کے محمود اخونزدہ نے کی تھی جس کے بعد قبائل کی طرف سے یہ علاقہ ان کو تحفے میں دے دیا گیا تھا۔

اسلم فاروقی ابتدا ہی سے مذہبی رحجانات رکھتے تھے اور انہوں نے مختلف دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی۔ وہ حافظ قران تھا۔

اسلم فاروقی کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ شاید وہ پہلے شدت پسند مذہبی شخصیت ہیں جنہوں نے 90 کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں اس وقت کی اورکزئی ایجنسی میں اسلامی شرعی نظام کا اعلان کرکے ٹی وی، وی سی آر اور ڈش انٹینا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وہ اپنے مدرسے کے طالبان کے ذریعے سے خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں بھی دیا کرتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں طالبان تحریک کی ابتدا نہیں ہوئی تھی۔

اورکزئی ایجنسی پر نظر رکھنے والے بیشتر صحافیوں کا کہنا ہے کہ قبائلی ملک ہونے کے ناطے اسلم فاروقی کے ہمیشہ سے مقامی پولیٹیکل انتظامیہ سے قریبی مراسم رہے اور ان کی تمام کارروائیوں کو درپردہ سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی جبکہ بعض ذرائع کے مطابق انہیں اس کا باقاعدہ معاوضہ بھی دیا جاتا تھا۔

اسلم فاروقی اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات اور جرگوں میں ہمیشہ سے پیش پیش رہے اور وہ ایک عرصے تک کالعدم شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کا حصہ بھی رہے۔

تاہم سال 2007 میں جب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تو ابتدا میں وہ اس کا حصہ نہیں بنے لیکن بعد میں جب سنی شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ نے ٹی ٹی پی سے اتحاد کیا تو اسلم فاروقی کے بھی طالبان تحریک سے مراسم پیدا ہوئے۔ اس وقت ٹی ٹی پی میں سپاہ صحابہ گروپ کے کرتا دھرتا طارق آفریدی المعروف طارق گیدڑ گروپ کو زیادہ اثرورسوخ حاصل تھا۔ اسلم فاروقی بھی کچھ عرصہ اس گروپ سے منسلک رہے۔

بتایا جاتا ہے کہ طارق آفریدی اور اس کے گروپ کے جنگجو کچھ وقت کے لیے اورکزئی ایجنسی میں مقیم بھی رہے جہاں اسلم فاروقی کی طرف سے ان کو پناہ دی گئی تھی۔ بعد میں وہ باقاعدہ طور پر تحریک طالبان کا حصہ بن گئے اور حکیم اللہ محسود اور حافظ سعید خان کے گروپ کے قریب رہے۔ حافظ سعید خان تحریک طالبان پاکستان اورکزئی ایجنسی کے پہلے امیر تھے اور وہ اور اسلم فاروقی ایک ہی قبیلے ماموں زئی سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو القاعدہ کے کئی عرب جنگجو افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ گزین ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض عرب خاندانوں کو اسلم فاروقی کی طرف سے اورکزئی ایجنسی میں پناہ دی گئی۔ اس دوران ان کے عرب جنگجوؤں سے بھی مراسم استوار ہوئے۔ تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی وجہ سے کچھ عرب جنگجو ان سے ناراض ہوئے جس کے بعد وہ اورکزئی ایجنسی چھوڑ کر وزیرستان منتقل ہوگئے۔

سال 2014 میں جب قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا تو شدت پسند تنظیموں کے خلاف سختیاں بڑھ گئیں اور کئی جنگجو پاکستان چھوڑ کر افغانستان منتقل ہوئے۔ اسلم فاروقی اور ان کے حامیوں کا تقریباً 1300 افراد پر مشتمل گروپ اورکزئی ایجنسی چھوڑ کر کرم کے راستے افغانستان منتقل ہوگیا۔

اسلم فاروقی اس وقت ٹی ٹی پی اورکزئی کے امیر حافظ سعید خان اور مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کے گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی میں امارت کے معاملے پر اختلاف پیدا ہوگئے تھے اور حافظ سعید خان تحریک طالبان چھوڑ کر دولت اسلامیہ یا داعش میں شامل ہوگئے تھے۔

جب حافظ سعید خان کو دولت اسلامیہ خراسان کا پہلا امیر مقرر کیا گیا تو اسلم فاروقی بھی ان کے ساتھ باقاعدہ طور پر اس تحریک میں شامل ہوئے۔

بتایا جاتا ہے کہ حافظ سعید کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد داعش کی جانب سے دو مزید امیر بنائے گئے لیکن وہ بھی امریکی حملوں میں مارے گئے جس کے بعد اسلم فاروقی کو داعش خراسان کا امیر مقرر کیا گیا لیکن اس تقرری کو کسی وجہ سے خفیہ رکھا گیا، تاہم بعض ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ بعد میں انہیں دولت اسلامیہ (داعش) خراسان کی سربراہی سے معزول کیا گیا تھا لیکن اس ضمن میں مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے این ڈی ایس کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اسلم فاروقی کابل میں گذشتہ سال مارچ میں ایک سکھ گوردوارے پر حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ اس حملے میں، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی، کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

این ڈی ایس کے بیان کے مطابق اسلم فاروقی اس سے پہلے دولت اسلامیہ کے خیبر ایجنسی اور پشاور کے امیر بھی رہے ہیں۔ اس گرفتاری سے افغانستان میں داعش کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں