بھارت: 18 سالہ مسلمان نرس مبینہ طور پر گینگ ریپ کے بعد قتل

نئی دہلی (ڈیلی اردو/بی بی سی) بھارت کی سب سے بڑی ریاست اُترپردیش کا ضلع اناؤ ایک بار پھر شہ سرخیوں میں ہے کیونکہ یہاں ایک ہسپتال میں کام کرنے والی ایک 19 سالہ نرس کی لاش دیوار سے لٹکی ہوئی ملی ہے۔

ہلاک ہونے والی خاتون کے اہلخانہ نے اس حوالے سے پولیس میں درج ایف آئی آر میں اپنی بیٹی کے ساتھ اجتما‏عی ریپ اور قتل جیسے الزامات کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے۔ پولیس نے اس مقدمے میں تین نامزد ملزموں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ہسپتال کو سیل کر دیا گیا ہے۔

’انڈیا ٹوڈے‘ کی خبر کے مطابق متاثر لڑکی کی شناخت 19 سالہ نازیہ کے طور پر ہوئی ہے جو کہ ٹکانا گاؤں کی رہنے والی تھیں۔

ضلع اناؤ سے صحافی روی نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثر لڑکی کی ہسپتال میں بطور نرس ملازمت کا پہلا دن تھا جبکہ اس ہسپتال کا افتتاح محض پانچ روز قبل ہی ہوا تھا۔

25 اپریل کو علاقے کے ایم ایل اے نے ’نیو جیون‘ نامی اس ہسپتال کا افتتاح کیا تھا۔

خاندان کا الزام

لڑکی کے ماموں نے بتایا کہ جمعہ کی شام جب ان کی بھانجی ہسپتال گئی تو وہاں کوئی مریض چیک اپ کی غرض سے نہیں آیا تھا۔ نازیہ نے ہسپتال کے قریب ہی ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا اور ہسپتال سے فارغ ہو کر وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس رات تقریباً 10 بجے انھیں (نازیہ) کال موصول ہوئی اور نرسنگ ہوم بلایا گیا۔ لڑکی کے ماموں نے الزام عائد کیا کہ ہسپتال ہی میں ان کی بھانجی کا اجتماعی ریپ کیا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔

اطلاع ملنے پر لڑکی کی والدہ وہاں پہنچیں، جہاں انھیں بیٹی کی لاش ہسپتال کی دیوار سے لٹکی ہوئی ملی۔

روی کے مطابق والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ ’سنیچر کی صبح مجھے ہسپتال سے فون آیا کہ میری بیٹی نے پھانسی لگا کر خود کشی کر لی ہے، جب میں ہسپتال پہنچی تو دیکھا کہ میری بیٹی کی لاش چھت کے ستون سے لٹکی ہوئی تھی۔ نوکری کی وجہ سے ہی بیٹی نے دو تین دن پہلے ہسپتال کے قریب ایک کمرہ لیا تھا۔‘

نازیہ کی والدہ نے بتایا کہ ان کی آٹھ بیٹیاں ہیں اور مرنے والی بیٹی چوتھے نمبر پر تھی۔ لڑکی کی تین بڑی بہنیں بھی کام کرتی ہیں اور ان کے والد کا انتقال 10 سال پہلے ہو گیا تھا۔ والدہ کے مطابق ان کے شوہر کی وفات کے بعد سے بیٹیاں ہی گھر کا خرچ چلاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی بیٹی نے ’خود کمائی کی اور اس کو استعمال کرتے ہوئے نرسنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔‘

پولیس نے کیا کہا؟

اناؤ کے اے ایس پی ششی شیکھر نے بتایا کہ لڑکی کے گاؤں سے ہسپتال کا فاصلہ 15 کلومیٹر ہے اس لیے وہ ہسپتال کے قریب ہی کرائے کے کمرہ لے کر رہتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’لڑکی کا چہرہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک کپڑا پھنسا ہوا تھا۔ دونوں ہاتھ سینے اور دیوار کے درمیان دبے ہوئے تھے۔ یہ کپڑا کس کا ہے، اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ فی الحال ہسپتال کو سیل کر دیا گیا ہے۔‘

بانگرمؤ کے انسپکٹر برجیندر ناتھ شکلا نے بتایا کہ اس کیس میں تین لوگوں کے خلاف ریپ اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر جب پولیس ہسپتال پہنچی تو ہسپتال کے مالک سمیت تینوں ملزمان وہاں موجود تھے۔

حکام نے بتایا کہ لڑکی کی لاش کا پوسٹ مارٹم دو ڈاکٹروں کی ٹیم نے شام دیر گئے کیا۔ ابتدائی رپورٹ میں پھانسی لگنے سے قبل موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

ریپ کی تصدیق کے لیے ایک سلائیڈ بنائی گئی ہے۔ اسے ایف ایس ایل جانچ کے لیے لکھنؤ بھیج دیا گیا ہے۔ پاؤں کی انگلیوں میں ایک جگہ رگڑ کے نشانات پائے گئے ہیں۔

اناؤ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ستیہ پرکاش نے بتایا کہ بانگرمؤ کے نو جیون ہسپتال میں بنیادی طور پر معیارات پورے نہیں ہیں۔ مکمل تحقیقات تک ہسپتال بند رہے گا۔

سوشل میڈیا پر شور

مغربی بنگال میں خواتین اور اطفال کی ترقی اور بہبود کی وزارت کی وزیر ڈاکٹر ششی پانجا نے لکھا کہ ’بی جے پی کی حکومت والے اترپردیش میں خوف کا رقص جاری ہے۔ نوجوان نرس کا ملازمت کے پہلے دن ہی ریپ کر دیا جاتا ہے۔ انڈیا کی قومی انسانی حقوق کی کمیشن ابھی تک سو رہی ہے؟‘

جبکہ اینتھونی سلدھانا نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’اترپردیش کے اناؤ میں ایک 19 سالہ نرس لٹکی پائی گئی ہے۔ ہاں اسی اناؤ میں۔ ان کے والدین کا کہنا ہے کہ لڑکی کا ریپ اور قتل ہوا ہے۔ خواتین کے خلاف دہشت جاری ہے۔ جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ اترپردیش میں سکوٹی پر ایک 16 سال کی لڑکی رات کے 12 بجے (بے خوف) نکل سکتی ہے۔‘

کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد لکھتی ہیں کہ ’یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں اترپردیش کے اناؤ اور ہاتھرس جیسے مقامات پر خواتین کو کب تک دہشت کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اترپردیش میں خواتین کی زندگی خوفناک خواب بن گئی ہے۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اناؤ میں خواتین کے خلاف بہیمانہ جرائم دیکھے گئے ہیں۔ سنہ 2017 میں ایک 17 سالہ لڑکی کے ریپ اور پھر اس کے والد کو پٹوانے کے ایک معاملے میں (جس میں والد کی موت ہو گئی) بی جے پی کے ایم ایل اے کلدیپ سینگر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اگست 2019 میں ایک لڑکی اور اس کی والدہ نے اناؤ کے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے سامنے خود سوزی کی کوشش کی کیونکہ اجتماعی ریپ کی شکایت کے بعد بھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔

اسی طرح دسمبر سنہ 2019 میں ایک 23 سالہ لڑکی کو ریپ کے بعد جلا دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں