کراچی: دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ختم کریں گے، وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی (ڈیلی اردو) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی بم دھماکے کے تخریب کار جہاں بھی ہوں گے، ان کے خلاف کارروائی ہوگی جبکہ ہم دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہیں۔

کراچی ایکسپو سینٹر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنی، سندھ حکومت اور ہر پاکستانی شہری کی طرف سے خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے کراچی میں بہت برے دن دیکھے ہیں اب وہ وقت ہم واپس نہیں آنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر ختم کریں گے، کہیں بھی ان کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، دہشت گرد سندھی ہے نہ بلوچ، نہ پختون اور نہ ہی پنجابی، حتیٰ کہ دہشت گرد انسان ہی نہیں، یہ دہشت گرد پاکستانی ہیں نہ مسلمان۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میں ڈپلومیٹک کمیونٹی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایکسپو سینٹر میں شرکت کرکے دہشت گرد سوچ کو شکست دی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہر قائد میں 2013 کے بعد امن و امان بحال ہوا، آج کراچی میں کرائم انڈیکس بہت بہتر ہے، مجھے کسی صورت ایک بھی قتل قبول نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نیکٹا کو بحال کرنا چاہتے ہیں، ہمیں مل جل کر اس دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔

کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ کیا چینی اساتذہ کو قتل کرنا جائز تھا، کیا عمر کو صدر میں قتل کرنا جائز تھا؟

وزیراعلیٰ سندھ نے صدر دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کل ہی ہم نے کراچی یونیورسٹی میں جاں بحق ہونے والے تین چینی شہریوں کی میموریل سروس کی، پھر رات کو صدر کا واقعہ ہوگیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات کراچی کے علاقے صدر میں دھماکے سے ایک شہری ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی فورم کی طرف آنے والے ہفتے میں ایک تقریب میں صوبائی حکومت کو الگ سے دعوت گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ہم سندھ حکومت کے لیے الگ سے دو گھنٹوں کی ملاقات رکھیں گے، جس میں سرمایہ کار بھی ہوں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم صرف تنخواہوں کی مد میں 55 ارب دیتے ہیں تو اتنی بڑی رقم کے لیے ہمیں مدد لینی پڑتی ہے، اس پورے خطے میں 2 واحد صوبائی حکومتیں ہیں جو رینکنگ میں آتی ہیں۔

کراچی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر کراچی کی ترقی کم ہوگی تو اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا، ہم نے ورلڈ بینک کی معاونت سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے نام سے ایک تحقیق کروائی تھی جس میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس منصوبے کی 2015 میں 3 ارب ڈالرز کی لاگت تھی مگر اب ان چیزوں کی قیمتین بڑھ گئی ہیں تو لاگت بھی زیادہ ہوگی اور اتنی بڑی رقم نہ تو صوبائی حکومت دے سکتی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت، لہٰذا ہمیں دیگر اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو ہم نے تباہ نہیں کیا، ہم مانتے ہیں کہ ماضی میں ہم متحدہ حکومتوں کا حصہ رہے ہیں لیکن کراچی کے نالوں اور سڑکوں پر قبضہ ہے، اس طرح یہ شہر ترقی نہیں کر سکتا، 2013 میں یہ شہر خطرناک ترین شہروں کی فہرست میں 7 ویں نمبر پر تھا مگر اب بڑے پیمانے پر ہم نے اس شہر میں جرائم پر قابو پا لیا ہے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ناموس رسالت پر عمران خان نے فرانسیسی سفارت کار کو نکالنے کی مخالفت کی مگر آج وہی شخص امریکا اور پوری دنیا کو ٹارگٹ کررہا ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب سندھ میں وائرس پھیل رہا تھا تو ہم نے بہت سخت اقدامات کیے تھے جس پر کاروباری کمیونٹی مجھ سے ناراض ہوگئی تھی، لیکن مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، اب بھی ہم مشکل فیصلے کرنے میں گھبرا رہے ہیں لیکن میں تمام اسٹیک ہولڈز کا مشکور ہوں جنہوں نے کورونا وائرس میں مشکل فیصلے لینے میں ہمارا ساتھ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں