ترکی میں اسرائیلی سیاحوں کو ممکنہ خطرہ جو ایران اسرائیل ’خاموش جنگ‘ کو منظر عام پر لے آیا

استنبول (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسرائیل کے ممکنہ عبوری وزیرِ اعظم بننے والے شخص نے ترکی کا ہنگامی دورہ کیا ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ایرانی ایجنٹس وہاں موجود اسرائیلی سیاحوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل مدتی خاموش جنگ اب مزید عیاں ہوتی جا رہی ہے۔

گذشتہ کئی برسوں سے دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر خفیہ کارروائیاں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل ایران کے خاتمے کی بات کرتا ہے اور اسے اپنے لیے ’سب سے بڑا خطرہ‘ قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب ایران اسرائیل کو ایسے دشمن کے طور پر دیکھتا ہے جو امریکہ کی طرف داری کر رہا ہے اور اس کی ترقی اور خطے میں اجارہ داری کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

صورتحال نے اس وقت ایک ڈرامائی موڑ اختیار کیا تھا جب سنہ 2020 میں ایرانی رہنماؤں نے اسرائیل کو اپنے جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

محسن کو تہران کے باہر ایک سڑک پر ڈرائیونگ کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایک ’ریموٹ کنٹرولڈ مشین گن‘ سے ہلاک کیا گیا تھا۔

اسرائیل نے ایرانی سائنسدان کی موت میں ملوث ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ فخری زادے پانچویں ایرانی جوہری سائنسدان تھے جنھیں سنہ 2007 کے بعد سے قتل کیا گیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے ایک تفصیلی رپورٹ میں یہ بیان کیا گیا کہ کیسے اسرائیل نے انھیں قتل کیا۔ موساد کے سابق سربراہ نے بعد میں انکشاف کیا کہ محسن فخری زادے ‘کئی برسوں سے’ ان کے نشانے پر تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خفیہ ادارے کو محسن فخری زادے کی سائنسی معلومات کے بارے میں خدشات تھے۔ مغربی خفیہ اداروں کا ماننا تھا کہ فخری زادے اس خفیہ پروگرام کے سربراہ تھے جو جوہری وار ہیڈ بنا رہا تھا۔

اس کے بعد سے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے صدر بننے کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں شروع کیں، جو ان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ نے معطل کر دیا تھا، تو ایسے میں ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے خلاف خفیہ آپریشن جاری رکھے ہوئے تھے۔

اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس نے ایک مبینہ ایرانی حملے کے منصوبے کو ناکام بنایا ہے۔ ایران اسرائیل میں ایک ڈرون آپریشن کرنے کی بات کر چکا ہے، دونوں ممالک نے مبینہ طور پر ایک دوسرے کے مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایران نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیل ایک زیرِ زمین جوہری تجربہ گاہ پر حملے میں ملوث تھا۔

کچھ ہی روز قبل، ایران نے کہا تھا کہ وہ موساد کے ساتھ مبینہ تعلقات کے الزام میں تین افراد کے خلاف مقدمہ چلا رہا ہے جن پر الزام یہ ہے کہ انھوں نے ایرانی جوہری سائنسدانوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ایران نے بھی ملک میں ایسی متعدد اموات کا ذکر کیا ہے جن میں دو ایسے ایرو سپیس حکام کی اموات بھی ہیں جنھیں ایران کے سرکاری موقف کے مطابق ‘مشن کے دوران شہید’ کیا گیا تھا۔

ان کے علاوہ وزراتِ دفاع کے ایک انجینیئر بھی ان میں شامل ہیں جو ایران کے سرکاری موقف کے مطابق ‘صنعتی حادثے کے باعث شہید’ ہوئے۔ تاہم اس واقعے کا الزام اسرائیل پر نہیں لگایا گیا۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ ’خاموش جنگ‘ اب بظاہر منظرِ عام پر آتی جا رہی ہے۔ اس بارے میں تو ایپل ٹی وی شو ’تہران‘ بھی بن چکا ہے جس میں خفیہ ادارے موساد کا ایک ایجنٹ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ ترین درجوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

رچرڈ گولڈبرگ ٹرمپ انتظامیہ میں وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل میں ایرانی جوہری اسلحے کے خلاف حکمتِ عملی بنانے کے محکمے کے ڈائریکٹر تھے۔ انھوں نے بتایا کہ محسن فخری زادے کو ایران میں اندر کے لوگوں کے ملوث ہوئے بغیر قتل نہیں کیا جا سکتا تھا۔

‘کسی بھی انتہائی کڑی سیکیورٹی والی جوہری تجربہ گاہ یا خاص اشخاص تک پہنچنے کے لیے آپ کو اس نظام میں حکام کی ملی بھگت درکار ہو گی۔’

ایران اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2018 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کیا ہے اور امریکی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کیا ہے ایران نے اس کا جواب مزید یورینیئم کی افزودگی سے دیا ہے اور اب وہ ایک جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے۔

ویانا میں جوہری پروگرام کی بحالی سے متعلق دنیا کی طاقتوں کے ساتھ اس کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی سرحدوں میں ہونے والے حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

مارچ میں ایران کی جانب سے مبینہ طور ایک اسرائیلی ‘سٹریٹیجک مرکز’ کو عراق کے کردستان خطے میں نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی حمایتِ یافتہ ملیشیا پر بھی ایسے عراقی فوجی اڈوں کو راکٹ اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر رسد پہنچانے والے قافلوں پر حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

اب اسرائیل نے استنبول میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ فوری طور پر شہر چھوڑ دیں اور جو افراد وہاں جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں وہ اسے ترک کر دیں کیوں کہ ان کی جانوں کو ایران ایجنٹس سے ‘فوری اور حقیقی خطرہ’ ہے۔

چند روز کے مہمان وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ نے اس دوران کہا ہے کہ اسرائیل ‘آکٹوپس ڈاکٹرائن’ کے نفاذ کی جانب بڑھ رہا ہے جس میں خطے میں کسی دوسرے ملک میں موجود پراکسیز پر حملوں کی بجائے ایران کے جوہری میزائل اور ڈرون پروگراموں کے خلاف خفیہ آپریشن کرنا شامل ہے۔

انھوں نے رواں ماہ کے آغاز میں دی اکانمسٹ کو بتایا کہ ‘ہم اب ایران کی پراکسیوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے، اب ہم نے ایک نئی حکمتِ عملی بنائی ہے اور ہم براہ راست حملہ کریں گے’

یونیورسٹی آف تہران کے پروفیسر محمد مارانڈی جو ایران کے جوہری پروگرام کی مذاکراتی ٹیم کے مشیر برائے میڈیا بھی ہیں کہتے ہیں کہ ‘مغربی سیاسی تحفظ کے پیچھے چھپ کر معصوم شہریوں کو قتل کرنا اسرائیلی حکومت کے لیے کچھ نیا نہیں ہے لیکن اسرائیل اپنی صلاحیتوں کو سیاسی مقاصد کے باعث بڑھا چڑھا کر بتاتا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ حادثے اور طبعی اموات کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ تھا۔’

‘ایران بھی جوابی حملہ کرے گا، لیکن ایران ابھی صبر کر رہا ہے۔’

ایران کی ایلیٹ قدس فورس پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیاں کرنے والی شاخ ہے۔ اس کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی ایسی تحریک کی حمایت کی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل مخالف ہو۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے پیشرو جنرل قاسم سلیمانی کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک امریکی ڈرون سٹرائیک کے نتیجے میں جنوری 2020 میں ہلاک کیا گیا تھا۔

سلیمانی امریکی فوج کے نشانے پر تھے اور انھیں متعدد مرتبہ رعایت دی گئی تھی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے خلاف کارروائی کی اجازت دی اور کی رہنمائی اس وقت کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ سلیمانی ‘دنیا میں کہیں بھی اس وقت کا نمبر ون دہشتگرد تھا۔’

ٹرمپ انتظامیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی بھی کوشش کی اور ایران کو مزید تنہا کرنے کے لیے ابراہم اکارڈ کے ذریعے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے اور انھیں اسرائیل کی حیثیت تسلیم کرنے میں مدد کی۔

ایک سینیئر عرب سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ایران ابراہم اکارڈز سے نفرت کرتا ہے۔‘

تاہم ایران کے ایک سابق افسر نے کہا کہ ان کے نزدیک یہ معاہدے طویل المدتی نہیں ہیں اور یہ ‘عارضی محبت’ کی طرح ہیں۔

صدر بائیڈن کے اسرائیل اور سعودی عرب کے آئندہ دورے کے باوجود بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ امریکہ ایران اسرائیل خاموش جنگ میں تیزی نہیں دیکھ رہا۔

‘یہ ایک طویل عرصے سے چل رہی ہے، انتہائی سست رفتار سے اور دونوں اطراف سے کوئی حیرت انگیز اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے تھے، اب یہ منظر عام پر آ گیا ہے۔’

رچرڈ گولڈبرگ اب واشنگٹن میں موجود فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز تھنک ٹینک میں سینیئر مشیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کی خفیہ مہم کی کچھ حدود ہیں۔

‘دنیا کو ایسی کسی بڑی خبر کی توقع ہے کہ ہم صبح اٹھیں اور ہمیں اسرائیلی ایئر سٹرائیکس کے بارے میں علم ہو۔‘

‘لیکن اسرائیلی خاموشی سے اس خفیہ جنگ کو عام بنا رہے ہیں اور اس میں آسانی سے تیزی آ سکتی اور یہ براہ راست جوہری تنصیبات پر حملے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ اور شاید اس وقت دنیا کو یہ کہنے کا بھی موقع نہ ملے کہ یہ ایک فوجی حملہ ہے جسے ہمیں روکنا ہے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں