روس یوکرین جنگ: زیلنسکی سے رجب طیب ایردوان اور اینٹونیو گوئٹرس کی اعلیٰ سطح پر ملاقات

انقرہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی/وی او اے) روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطح پر کوششوں کے سلسلے میں ترکی کے رہنما اور اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے جمعرات کو یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ البتہ اس ملاقات کے بعد فوری طور پرمعمولی پیش رفت کی اطلاع ملی ہے۔

لاویف میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایک اہم موضوع جنوبی یوکرین میں قائم زپوریژیا نیوکلئیر پلانٹ تھا۔ ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے پر اس کمپلیکس پر گولہ باری کا الزام لگایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ زیلنکسی نے کریملن کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘ایٹمی بلیک میل’ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ روسی فوجی پلانٹ سے نکل جائیں اور اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کی ٹیم کو اندر جانے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ‘فوجی سازو سامان اور اہلکاروں کو پلانٹ سے نکل جانا چاہیے جب کہ سائٹ پر فورسز یا آلات کی مزید تعیناتی سے گریز کرنا چاہیے۔ اس جگہ کو فوج سے پاک کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ بتانا چاہیے کہ زپوریژیاکو کوئی بھی ممکنہ نقصان خودکشی ہے۔”

دوسری جانب صدر ایردوان نے بھی پلانٹ کے ارد گرد لڑائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ،”ہم نے زپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کے ارد گرد پیدا ہونے والے خطرے پر بات کی”

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوئٹرس لفیف یوکرین میں میٹنگ کے بعد مصافحہ کر رہے ہیں ۔

صدر کی ویب سائٹ کے مطابق جمعرات کو زیلنسکی اور اقوامِ متحدہ کے سربراہ پلانٹ کے لیے آئی اے ای اے کے ایک مشن کے انتظامات پر متفق ہوئے۔ البتہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا کریملن ان شرائط پر رضا مند ہوجائے گا۔

جہاں تک فوجیوں کے انخلا کا معاملہ ہے تو روسی وزارت خارجہ کے ایک عہدےدار نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس سے پلانٹ کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کوکسی شرط کے بغیر اپنے فوجیوں کو زپوریژیا نیوکلئیر پاور پلانٹ سے فوری طور پر نکال لینا چاہیے۔ تمام اشتعال انگیزیاں روک دینی چاہییں، تمام گولہ باری روک دینی چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیےکہ روس ہر ایک کو عالمی تابکاری کے ایک سانحے کے دہانے پر لارہا ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو اس وقت خوف میں اضافہ ہو گیا جب روس اور یوکرین کے عہدے داروں نے ایک دوسرے پر سائٹ پر حملے کی سازش اورحملے کا الزام لگایا۔

ایک روسی فوجی زیپوریژیا نیوکلئیر پاور اسٹیشن میں روسی فوجی کنٹرول کے علاقے میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہا ہے: فوٹو اے پی

اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے بعد، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے رات کو اپنے خطاب میں کہا کہ “کوئی بھی جعلی ریفرنڈم بین الاقوامی برادری کے منہ پر طمانچہ ہو گا۔”

خبر رساں ادارے ‘ اے ایف پی ‘کے مطابق زیلنسکی نے مزید کہا کہ انہوں نے ترکی کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل دونوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کی جانب سے قبضہ کیے گئے علاقوں میں مجوزہ جعلی ریفرینڈم کے حوالے سے سخت ترین ممکنہ موقف اختیار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں