خلیج عمان میں امریکی نیوی کے سمندری ڈرون تعینات

واشنگٹن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے/ اے ایف پی) امریکہ نے خلیج عمان اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ممکنہ طور پر ایرانی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے سمندری ڈرون تعینات کر رکھے ہیں۔ حال ہی میں ایران نے ایسی دو کشتیوں کو مختصر دورانیے کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

حال ہی میں ایران کی جانب سے بغیر پائلٹ والی امریکی بحریہ کی کشتیوں کو پکڑے جانے کے واقعے نے پینٹاگون کے ایک نئے اور اہم پروگرام پر سے پردہ اٹھایا۔ امریکی محکمہ دفاع وسیع علاقوں کی نگرانی کے لیے فضائی، سمندر کی سطح پر چلنے والے اور پانی کے اندر تیرنے والے ڈرونز کے نیٹ ورک تیار کر رہا ہے، جو مصنوعی ذہانت سے لیس ہیں۔

اس پروگرام کے تحت جزیرہ نما عرب کے آس پاس کے سمندروں میں پچھلے چند برسوں میں بغیر پائلٹ والے بے شمار جہاز یا USVs کو چلایا جاتا رہا ہے۔ یہ ڈرون ڈیٹا اور تصاویر جمع کر کے خلیج میں قائم مراکز تک پہنچاتے ہیں۔ اس پروگرام کے بارے میں اب تک زیادہ معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز نے 29-30 اگست اور یکم ستمبر کو دو واقعات میں سات میٹر طویل تین ‘سیلڈرون ایکسپلورر یو ایس ویز‘ پکڑیں، جنہیں ایک امریکی ہیلی کاپٹر اور بحری جہاز کی مداخلت کے بعد چھوڑا گیا۔ پہلا واقعہ 29-30 اگست کو خلیج عمان میں اور دوسرا واقعہ بحیرہ احمر میں پیش آیا۔

ایران کے مطابق امریکی USVs بین الاقوامی شپنگ لین میں تھے اور ‘ممکنہ حادثات کو روکنے کے لیے‘ روکے گئے تھے۔ امریکی بحریہ نے اس کے رد عمل میں کہا کہ USVs شپنگ لین سے باہر اور غیر مسلح ہو کر کام کر رہے ہیں۔

ان ڈرونز کو بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کی پانچویں فلیٹ کی ٹاسک فورس 59 کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اس خصوصی ٹاسک فورس کو پچھلے سال بغیر پائلٹ کے نظام اور مصنوعی ذہانت کو مشرق وسطیٰ کی سرگرمیوں میں مربوط کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ فلیٹ کے ترجمان کمانڈر ٹم ہاکنز نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ فضائی اور زیر سمندر ڈرون بہت اچھی طرح سے تیار اور ثابت ہو چکے ہیں لیکن سطح پر چلنے والی کشتیاں ابھی نئی مگر مستقبل کے لیے ضروری ہیں۔

ہاکنز نے بتایا کہ ‘خلیج عمان میں یہ ڈرون معلومات اکٹھی کرتے ہیں تاکہ آس پاس کے سمندروں کے بارے میں ہماری تیاری کو بڑھایا جا سکے اور علاقائی سطح پر مزاحمت کی پوزیشن کو مضبوط رکھا جا سکے۔‘ لیکن عام رائے یہی ہے کہ ان کا اصل ہدف ایرانی سرگرمیاں ہیں۔

ایرانی کشتیاں بھی خطے میں گشت کرتی ہیں اور تہران حکومت نے حالیہ برسوں میں کئی غیر ملکی تجارتی جہازوں پر الزام لگایا اور ان پر قبضہ کیا اور امریکی بحریہ کے جہازوں کو بھی ‘ہراساں‘ کیا۔

امریکی بحریہ ایران کو یمن کے حوثی باغیوں اور دیگر گروپوں کو ہتھیاروں فراہم کرنے سے روکنے کی کوششوں میں ہے۔

ہاکنز نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پروگرام کی شروعات کے ایک سال بعد ہی ایرانیوں نے اچانک کچھ ڈرونز کو پکڑنے کی کوشش کیوں کی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ جو کچھ کر رہا ہے وہ خفیہ نہیں ہے۔ اس پروگرام کا اعلان گزشتہ ستمبر میں کیا گیا تھا اور فروری میں پانچویں بحری بیڑے نے بین الاقوامی میری ٹائم مشق 2022 کی میزبانی کی، جس میں 10 ممالک کی 80 سے زیادہ USVs کو خلیج میں آزمانے کے لیے پیش کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں