روس یوکرین کے جوہری پلانٹ پر اپنا قبضہ ختم کرے، آئی اے ای اے

ویانا (ڈیلی اردو/رائٹرز/وی او اے) جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین میں زاپورژیا جوہری پاور پلانٹ پر اپنا قبضہ ختم کرے۔

یہ بات جمعرات کو ویانا میں بند کمرے کے ایک اجلاس میں شریک سفارت کاروں نے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے بورڈ کی طرف سے منظور کردہ قرارداد میں روس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ “فوری طور پر زاپورژیا جوہری پاور پلانٹ اور یوکرین میں کسی بھی دوسری جوہری تنصیب کے خلاف تمام کارروائیاں بند کردے۔”

سفارت کاروں نے بتایا کہ 35 رکنی بورڈ کی جانب سے منظور کی گی قرارداد میں 26 ارکان نے اس کے حق میں جب کہ روس اور چین نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیے اور سات ارکان غیر حاضر تھے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پلانٹ پر فوجی قبضے سے جوہری حادثے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے جس سے یوکرین، پڑوسی ریاستوں اور عالمی برادری کی آبادی کو خطرہ لاحق ہو گا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج اور روس کی سرکاری جوہری کارپوریشن روساٹوم کو جوہری پلانٹ میں تمام سرگرمیاں معطل کر دینی چاہئیں اور اس کا کنٹرول یوکرینی حکام کو واپس کر دینا چاہیے۔

آئی اے ای اے میں روس کے مشن نے کہا کہ “اس قرارداد کا کمزور پہلو یہ تھا کہ اس میں پلانٹ پر منظم گولہ باری کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔”

ایک بیان میں مشن نے کہا،” وجہ سادہ سی ہے۔ یہ گولہ باری یوکرین نے کی تھی، جس کی مغربی ملک ہر ممکن طریقے سے مدد اور حفاظت کرتے ہیں۔”

واضح رہے کہ زاپورژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ یورپ کا سب سے بڑا پلانٹ ہے جو حالیہ ہفتوں میں بار بار گولہ باری کی زد میں آیا ہے۔ ماسکو اور کیف دونوں نے ان حملوں کا الزام ایک دوسرے پر لگایا ہے۔ آئی اے ای اے نے جنگ زدہ ملک یوکرین میں جوہری پلانٹ کو نقصان پہنچنے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔

آئی اے ای اے کے ایک وفد نے ستمبر کے اوائل میں جوہری پلانٹ کا دورہ بھی کیا تھا اور خبر دی تھی کہ گولہ باری سے تنصیب کو نقصان پہنچا ہے۔

اختتامِ ہفتہ پاور پلانٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا اور بجلی کی لائنیں بحال کر دی گئی ہیں تاکہ جوہری ایندھن کی سلاخوں اور فضلے کو ٹھنڈا کرنے کو یقینی بنایا جا سکے، جو کسی سانحے کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں