اسرائیلی وزیراعظم کی 14 سال بعد ترک صدر سے ملاقات

نیو یارک (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/روئٹرز) کسی بھی اسرائیلی وزیر اعظم نے 14 برس بعد پہلی مرتبہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی ہے۔ دونوں علاقائی طاقتوں کے مابین طویل اور تلخ کشیدگی کے بعد ہونے والی یہ ملاقات گرمجوشی کی نئی علامت ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپیڈ نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے حاشیے میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سن 2008ء کے بعد دونوں رہنماؤں کے مابین یہ پہلی رو برو ملاقات تھی۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی اور جلد ہی ایک دوسرے کے ملکوں میں نئے سفیروں کی تعیناتی کے عمل کو سراہا ہے۔

 اسرائیل میں نئے عام انتخابات نومبر میں ہوں گے اور تب تک یائر لاپیڈ اس ملک کے عبوری وزیر اعظم ہیں۔ تاہم انہوں نے سابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتین یاہو کے برعکس انقرہ حکومت کے ساتھسفارتی تعلقات مضبوط بنانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

دوسری جانب ترک صدر نے بھی گزشتہ سال نیتن یاہو کے اقتدار چھوڑنے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں گرمجوشی لانے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔

اسرائیل اور ترکی کے مابین بڑھتا ہوا تعاون

یائر لاپیڈ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے توانائی کے شعبے میں تعاون کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے ترک صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ترک صدر نے بھی اسرائیل کے قدرتی گیس کے ذخائر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ روسی فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے پر تول رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل یورپ میں گیس کے اس خلا کو اپنے سمندری ذخائر سے پُر کرنے کا خواہش مند ہے۔

اسرائیل گیس کی برآمد کے نئے راستے بنانے کے لیے برسوں سے کام کر رہا ہے اور اب ترکی نے بھی ایک نئی پائپ لائن میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ترکی کے ساتھ گیس پائپ لائن تعمیر کی جائےتو اس پر ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور اسے دو سے تین برسوں میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

 مشرقی بحیرہ روم میں گیس کی بڑی دریافت، تقریباً 1000 بلین کیوبک میٹر، نے گزشتہ دہائی میں اسرائیل کو قدرتی گیس کے درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ ملک میں تبدیل کر دیا ہے۔ ابھی یہ اپنے دو بڑے آف شور فیلڈز لیویتھن اور تمر سے مصر اور اردن کو تھوڑی مقدار میں گیس فروخت کرتا ہے۔

اسرائیل کے سابق وزیر توانائی یوول اسٹینٹز کے مطابق اگلی تین دہائیوں میں اسرائیل کی گھریلو کھپت کے باوجود برآمد کرنے کے لیے تقریباً 600 بلین کیوبک میٹر گیس ان کے پاس دستیاب رہے گی۔

 اسرائیل کی وزارت توانائی میں قدرتی گیس کی بین الاقوامی تجارت کے ڈائریکٹر اوریت گانور کا کہنا ہے، ”سن 2016ء میں ترکی تک پائپ لائن کی جانچ کی گئی تھی، جس میں ترکی اور تجارتی کمپنیاں بھی شامل تھیں۔ لیکن یہ منصوبہ بنیادی طور پر اقتصادی وجوہات کی بناء پر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا تھا۔‘‘

تازہ ملاقات میں اسرائیل نے ترک صدر سے اپنے ان چار شہریوں کے حوالے سے بھی مدد مانگی ہے، جو سن 2014ء کے دوران غزہ میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان میں دو اسرائیلی فوجی تھے۔  اسرائیل نے ترک صدر سے یہ مدد اس لیے مانگی ہے کہ حماس کے متعدد رہنما ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ترک صدر حماس کے رہنماؤں پر اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں