ایران: مظاہروں میں 31 افراد ہلاک، انٹرنیٹ پر پابندی عائد

تہران (ڈیلی اردو/اے ایف پی/رائٹرز/ڈی پی اے) بائیس سالہ امینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہرے زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے جبکہ ملک گیر مظاہروں میں اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایرانی پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والی 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ایران بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں میں ایک پولیس اہلکار سمیت 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 امینی کو مبینہ طور پر غیر مناسب طریقے سے سر پر اسکارف پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ تشدد کے بعد کوما میں چلی گئیں اور جانبر نا ہو سکیں۔ ان کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایران میں شروع  ہونے والے ان مظاہروں کا مرکز کرد آبادی والے شمال مغربی علاقے ہیں تاہم اب ملک کے دیگر کم از کم 50 شہروں اور قصبوں میں بھی احتجاج جاری ہے۔ یہ ایران میں 2019ء  میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہیں۔

کردوں کے حقوق کے لیے سرگرم گروہ ہنگاؤ کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک ایک درجن سے زائد افراد مارے گئے ہیں تاہم ملکی حکام نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کو مسلح مظاہرین کی جانب سے ہی گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

‘انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن آبزرویٹری نیٹ بلاکس‘ کے مطابق ایرانی حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش

سماجی کارکنان کی جانب سے ایران میں انٹرنیٹ کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام  کی جانب سے تین سال قبل بھی ایسے اقدامات کیے گئے تھے، جب ملک میں پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے خلاف عوام کی جانب سے ملک گیر احتجاج شروع کیا گیا تھا۔

 ان مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد پندرہ سو تک پہنچ گئی تھی۔ ایرانی عوام اور نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام کو بھی بندش کا سامنا ہے اور حکومت کی جانب سے کچھ موبائل فون نیٹ ورکس بھی بند کر دیے ہیں۔ ہنگاؤ کے مطابق ملک کے کردستان صوبے میں انٹرنیٹ اس لیے بند کیا گیا ہے تاکہ ملک میں جاری احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر نا کی جا سکیں۔

امینی کی موت کے بعد اس اسلامی جمہوریہ میں خواتین شدید غم و غصے میں ہیں۔ مظاہروں میں خواتین کی جانب سے سر عام اسکارف جلائے جا رہے ہیں اور وہ بطور احتجاج سڑکوں پر کھڑے ہوکر اپنے بال خود کاٹ رہی ہیں۔ امینی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت تشدد کے بعد کوما میں جانے کے باعث ہوئی ہے تاہم پولیس یہ دعوی کر رہی ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہلاک ہوئیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک اعلیٰ معاون نے  امینی کے اہل خانہ سے تعزیت اور ان سے اس کیس کی شفاف تفتیش کروانے کا وعدہ کیا ہے۔

 تاہم ایک سماجی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ”ہمیں خدشہ ہے کہ جیسے ہی حکومت انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دے گی، دنیا ایران کے بارے میں بھول جائے گی، دوبارہ سب کچھ ویسے ہی ہو جائے گا، جیسا پہلے چل رہا ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں