بھارت: جیل میں مسلمان قیدیوں کی داڑھیاں زبردستی منڈوا دی گئیں

نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) مسلمانوں کا الزام ہے کہ جیلر نے انہیں پاکستانی کہا، ان کی توہین کی اور پھر زبردستی ان کی داڑھیاں منڈوا دیں۔ متاثرین اور بعض رہنماؤں نے اسے حراست میں اذیت دینے کے مترادف قرار دیا، جس کے بعد تفتیش کا حکم دیا گیا ہے۔

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ ضلع راج گڑھ میں حراست کے دورا جن مسلمانوں نے جیل حکام پر زبردستی داڑھی منڈوانے پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا ہے، اس کی تحقیقات کے لیے ایک آزادانہ انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھوپال کے ایک کانگریسی رہنما عارف مسعود نے اس پر سب سے پہلے آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ان کے ساتھ متاثرین سے ملاقات بھی کی اور متاثرین اور راج گڑھ کی مسلم کمیونٹی کو تحقیقات کا یقین دلایا۔

معاملہ کیا ہے؟

پولیس نے پانچ مسلم نوجوانوں کوچند دنوں قبل گرفتار کیا تھا، جو بعد میں جیل سے رہا کردیے گئے۔ جیل سے باہر آنے کے بعد ان نوجوانوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ جیل کے سربراہ این ایس رانا نے مسلمان ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی توہین اور ان کے ساتھ زبردستی کی اور داڑھی منڈوانے پر مجبور کیا۔

کلیم خان نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ دیگر افراد کے ساتھ انہیں بھی امتناعی احکامات کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا اور دوران حراست جیلر نے زبردستی ان کی داڑھیاں منڈوا دیں۔ رہائی کے بعد بعض سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ان افراد نے ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر اس کے خلاف احتجاج کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جیلر این ایس رانا اور جیل کے تین دیگر حکام نے، ”ہمیں پاکستانی کہا اور پھر ہمارے ساتھ زیادتی کرنے اور داڑھی منڈوانے کی ہدایات دی تھیں۔”

کلیم خان کا کہنا تھا، ”مجھے 13 ستمبر کو ممنوعہ احکامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور پھر اگلے دن جیل بھیج دیا گیا تھا۔ جیلر این ایس رانا نے میرے اور تین دیگر لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے جیل کے ایک ملازم کو زبردستی ہماری داڑھی مونڈنے کا حکم دیا۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی عقائد کے مطابق، ”میں یہ داڑھی گزشتہ آٹھ برسوں سے رکھ رہا تھا۔ جیلر کے اس اقدام سے میرے مذہبی جذبات کو کافی ٹھیس پہنچی ہے۔” ان الزامات کے بعد ہی ایک مسلم قانون ساز نے مطالبہ کیا تھا کہ جیل حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ضرورت ہے۔

 جیلر این ایس رانا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”میں کبھی کسی قیدی کے ساتھ بات چیت نہیں کرتا، اس لیے وہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ میں نے انہیں داڑھی منڈوانے کا حکم دیا تھا۔”  ان کا مزید کہنا تھا، ”مجھے معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی داڑھی کیوں منڈوائی لیکن جیل حکام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

مسلمانوں کے خلاف کھلی تفریق

اس دوران آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے بھی اس معاملے کو اٹھایا اور اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ”کیا کوئی داڑھی رکھنے سے پاکستانی بن جاتا ہے؟ کیا وزیراعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان جیلر کے خلاف کارروائی کریں گے یا وہ اس کی اس کارروائی پر اسے انعام دیں گے؟”  

 اسد الدین اویسی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس واقعہ کو ”حراست میں تشدد” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں مسلم نوجوانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ آئین کی دفعہ 25 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہی گجرات فسادات میں مودی کو کلین چٹ کی اب سپریم کورٹ سے بھی تصدیقوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست ”مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کی آبادی سات فیصد ہے، جبکہ وہاں زیر سماعت مقدمات میں سے 14 فیصد مسلمانوں کے کیسسز ہیں اور جو لوگ جیل میں بند ہیں،  ان میں سے 56 فیصد مسلمان ہیں۔ اس سے پوری طرح سے واضح ہوتا ہے کہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کھلے عام مسلمانوں کے ساتھ تفریق برتتی ہے۔”

اویسی کے مطابق، متاثرین کے خلاف تعزیرات ہندکی دفعہ 151 لگائی گئی تھی، جس کے مطابق پولیس اسٹیشن کی سطح پر ہی ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اویسی نے اپنے بیان میں مزید کہا، ”کیا بھارتی حکومت انسانی حقوق کے تمام بین الاقوامی معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گی اور کھلے عام یہ اعلان کرے گی کہ اب وہ سیکولرازم، تکثیریت اور تنوع پر یقین نہیں رکھتی؟”

بھارت میں قوم پرست ہندو جماعت بی جے پی کے دور اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ تفریق، خاص طور پر بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں، ایک عام بات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں