15

’مرگ بر خامنہ ای‘ والی فیس بک پوسٹس کی اشاعت درست ہے، میٹا

کیلیفورنیا (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف ’مرگ بر خامنہ ای‘ والی سوشل میڈیا پوسٹس کی اشاعت درست ہے اور کمپنی کے اخلاقی ضابطوں کے منافی نہیں۔ قبل ازیں فیس بک نے ایسی پوسٹس ہٹا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں گزشتہ برس ستمبر میں 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مھسا امینی کی ملک کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت کے بعد شروع ہونے والے عوامی مظاہرے کئی ماہ سے تہران حکومت اور ملکی قیادت کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

اس دوران بےشمار ایرانی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے اور ان میں سے متعدد کو ‘خدا کے خلاف جنگ‘ کے الزامات کے تحت موت کی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ ایسے کئی مظاہرین کو سنائی گئی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے دو کو سزائے موت ہفتہ سات جنوری کو دی گئی اور آج پیر نو جنوری کو ایسے ہی مزید تین مظاہرین کو بھی سزائے موت کا عدالتی حکم سنا دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر شدید تنقید

ان حالات میں سوشل میڈیا پر ایرانی حکومت اور قیادت کے خلاف زبردست تنقید دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ایسی پوسٹس بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں، جن میں کئی ایرانی صارفین نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے موت کے الفاظ استعمال کیے تھے۔

اس کے لیے فارسی زبان میں ‘مرگ بر خامنہ ای‘ کی ترکیب استعمال کی جا رہی تھی۔ اس پر فیس بک کی انتظامیہ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ایسی تمام پوسٹس ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ انتظامیہ کے مطابق ایسے پیغامات پوسٹ کرنا ‘تشدد آمیز دھمکیوں‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

میٹا کے اوورسائٹ بورڈ کا فیصلہ

فیس بک انتظامیہ کے اس فیصلے کے بعد یہی بات فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے واچ ڈاگ یا اوورسائٹ بورڈ کے پاس پہنچی تو اس بورڈ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صارفین کی طرف سے ایرانی مذہبی قیادت کے خلاف ایسے نعرے لکھا جانا غلط نہیں اور نہ ہی یہ فیس بک کے صارفین کے لیے طے کردہ ضابطہ اخلاق کے منافی ہے۔

میٹا کے بورڈ کے مطابق ’’مرگ بر خامنہ ای کوئی پرتشدد دھمکی نہیں اور اس لیے ایسی تمام فیس بک پوسٹس کا ہٹایا جانا بھی غلط تھا، جن میں یہ الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔‘‘ اوورسائٹ بورڈ نے آج پیر نو جنوری کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ فیس بک کو ایسی تمام پوسٹس نہیں ہٹانا چاہیے تھیں۔

بوڑد نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ‘مرگ بر خامنہ ای‘ کا مطلب ایرانی سیاق و سباق میں یہ نہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر کو کوئی نقصان پہنچایا جائے یا کسی کو ان کی جان لینے پر اکسایا جائے۔ اس کے برعکس اس سے مراد ‘خامنہ ای مردہ باد‘ ہے اور ایسا کہنے کا فیس بک صارفین کو حق حاصل ہونا چاہیے۔

میٹا کا اوورسائٹ بورڈ ایک ایسا آزاد پینل ہے، جس کے لیے فنڈنگ میٹا ہی کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے اور جس کے فیصلوں پر عمل درآمد فیس بک کے لیے لازمی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں