12

نیٹو کی رکنیت: سویڈن ترک حمایت کی توقع نہ رکھے، ترک صدر ایردوآن

انقرہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی/اے پی/ڈی پی اے/رائٹرز) ترک صدر رجب طیب ایردوآن اسٹاک ہوم میں گزشتہ ہفتے قرآن کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے سے سخت برہم ہیں۔ سویڈن کو مغربی فوجی اتحاد نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے ترکی کی حمایت کی ضرورت ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز کہا کہ اسٹاک ہوم میں ایک مظاہرے کے دوران ایک اسلام مخالف رہنما کے ذریعہ مسلمانوں کی مقدس ترین کتاب قرآن کو نذر آتش کرنے کے بعد اب سویڈن کو نیٹو کی رکنیت کے لیے ترکی کی حمایت کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔

انتہائی دائیں بازو کے ڈینش سویڈش سیاست داں راسموس پالوڈن نے گزشتہ سنیچر کو اسٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے قرآن مجید کا ایک نسخہ نذر آتش کر دیا تھا۔ اس سے قبل ترکی نے سویڈن سے اس مظاہرے کو ہر ممکن روکنے کی اپیل کی تھی۔

ایردوآن نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد ایک تقریر میں کہا، “جو لوگ ہمارے سفارت خانے کے سامنے اسلام کی توہین کی اجازت دیتے ہیں انہیں اب اپنی نیٹو کی رکنیت کے حصول کی کوشش میں ہماری حمایت کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔”

انہوں نے مزید کہا،”اگر آپ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان اور اسلام کے دشمنوں سے اتنی محبت کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں، تو ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے ممالک کی سلامتی کے لیے ان کا ہی تعاون حاصل کریں۔”

سویڈن کی جانب سے نقصان کو روکنے کی کوششیں

سویڈیش حکومت نے قرآن نذر آتش کیے جانے کے واقعے سے خود کو الگ کرلیا ہے، تاہم اس نے اظہار کی آزادی کا حوالہ دیا ہے، جس پر نورڈک ملکوں میں عمل ہوتا ہے۔

وزیراعظم الف کریسٹرسن نے ٹوئٹر پر لکھا،”اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا ایک بنیادی حصہ ہے، لیکن جو قانونی ہے، ضروری نہیں کہ وہ مناسب بھی ہو۔ کتابوں کو جلانا، جو بہت سے لوگوں کے لیے مقدس ہیں، ایک انتہائی توہین آمیز فعل ہے۔”

کریسٹرسن نے ہفتے کے روز یہ ٹوئٹ کرنے میں شاید کافی تاخیر کردی کیونکہ اس سے قبل ہی ترکی نے سویڈن کے وزیر دفاع پال جونسن کا انقرہ کا مقررہ دورہ منسوخ کردیا۔

انقرہ نے اسٹاک ہوم کے سفیر کو وضاحت کے لیے طلب بھی کرلیا۔

اتوار کے روز درجنوں مظاہرین نے استنبول میں سویڈش قونصل خانے کے باہر مظاہرہ کیا، جہاں انہوں نے سویڈن کا قومی پرچم نذر آتش کردیا۔

سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بلسٹروم نے رجب طیب ایردوآن کے ریمارکس پر فوری تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم انہوں نے کہا، “اسٹاک ہوم اس معاہدے کا احترام کرے گا جو سویڈن، فن لینڈ اور ترکی کے درمیان نیٹو کی رکنیت کے حوالے سے موجود ہے۔”

سویڈن کو ترکی کی حمایت کی ضرورت کیوں ہے؟

سویڈن ترکی کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ اس کے اور فن لینڈ کی جانب سے نیٹو میں شامل ہونے کی درخواستوں کی توثیق کردے۔

سویڈن کو نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے اس فوجی اتحاد کے تمام اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ اس معاملے میں صرف ترکی اور ہنگری کو ہی بعض اعتراضات ہیں۔ لیکن ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے وعدہ کیا ہے کہ ان کی پارلیمان اگلے ماہ دونوں ملکوں کی درخواستوں کی توثیق کردے گی۔

قرآن کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے سے پہلے ہی ترکی نے اسٹاک ہوم سے کرد کارکنوں کو انقرہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایردوآن نے پیر کے روز ایک بار پھر سویڈن پر کرد نواز گروپوں بشمول کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کو ملک میں ریلیاں نکالنے کی اجازت دینے پر تنقید کی۔

ترکی، یورپی یونین اور امریکہ پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ سمجھتے ہیں تاہم سویڈن میں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا، “ایک طرف تو آپ دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سڑکوں اور چوراہوں پر چہل قدمی کرنے دیں گے دوسری طرف نیٹو میں شامل ہونے کے لیے ہماری حمایت کی توقع کریں گے، ایسا نہیں ہوسکتا۔”

قرآن نذر آتش کرنا سبوتاژ کی کوشش، امریکہ

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ “قرآن کو نذر آتش کے لیے ذمہ دارافراد نے ایسا شاید اس لیے کیا ہو کہ وہ ہمارے دو قریبی شراکت داروں، ترکی اور سویڈن، کے درمیان دوری پیدا کرنا چاہتے ہوں۔”

نیڈ پرائس کا کہنا تھا،انہوں نے “سویڈن اور فن لینڈ کے نیٹو کی رکنیت کے حصول کے حوالے سے جاری بحث کو جان بوجھ کرمتاثر کرنے کی کوشش کی ہو۔”

انہوں نے اس حرکت کو”انتہائی افسوس ناک” اور “گھٹیا” قرار دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ آیا واشنگٹن کے خیال میں ایردوآن کے تبصروں کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کے لیے نیٹو کے دروازے قطعی طور پر بند ہو گئے۔

نیڈ پرائس کا کہنا تھا،”یہ ایک فیصلہ اور اتفاق رائے کی بات ہے جس پر فن لینڈ اور سویڈن کو ترکی کے ساتھ پہنچنا ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں