22

ہندو دیوی کے نام پر جنسی غلام بن کر رہنے والی بھارتی خواتین

نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/اے ایف پی) ہواکا بھیمپا کو بچپن میں ہی ایک ہندوستانی دیوی کے لیے وقف کر دیا گیا تھا۔ بھیمپا کی جنسی غلامی کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ان کے ماموں نے پہلی مرتبہ ان کے ساتھ جنسی عمل کیا اور بدلے میں ایک ساڑھی اور کچھ زیور دیا۔

ہواکا بھیمپا ابھی دس سال کی بھی نہیں تھیں کہ وہ ”دیوداسی‘‘ بن گئی تھیں۔ ایسی لڑکیوں کے والدین چند رسمیں ادا کرتے ہوئے ان کی شادی ایک ہندو دیوی سے کر دیتے ہیں۔ بعدازاں ان میں سے اکثر کو جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

دیوداسیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مذہبی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے عقیدت کی زندگی گزاریں۔ انہیں کسی بھی انسان سے شادی کرنے سے منع کر دیا جاتا ہے۔ بلوغت کی عمر میں پہنچتے ہی انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ تحائف کے عوض اپنے کنوار پن کو ختم کرنے کے لیے کسی عمر رسیدہ شخص کے ساتھ جنسی عمل کریں۔

بھیمپا کی عمر اس وقت چالیس برس سے زائد ہو چکی ہے۔ اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے ان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”میرے کیس میں وہ عمر رسیدہ شخص میری والدہ کا بھائی تھا‘‘۔ دیوداسی بننے کا نتیجہ برسوں پر محیط جنسی غلامی تھی۔ اس طرح دیوی کی خدمت کے نام پر دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی عمل کے ذریعے اپنے خاندان کے لیے پیسہ کمایا جاتا ہے۔

بھیمپا آخرکار اپنی جنسی غلامی سے بچ نکلنے میں کامیاب رہی لیکن ان کے پاس تعلیم نہیں تھی۔ اب وہ کھیتوں میں محنت کر کے روزانہ تقریباً ایک ڈالر کے برابر رقم کما لیتی ہیں۔

بھیمپا کو ہندوؤں کی دیوی رینوکا کے لیے وقف کیا گیا تھا۔ انہیں ایک مرتبہ ایک شخص سے محبت بھی ہوئی تھی لیکن اسے شادی کے لیے کہنا ایک ناقابل تصور بات تھی۔ بھیمپا کا اس بارے میں بتانا تھا، ”اگر میں دیوداسی نہ ہوتی تو آج میرا بھی ایک خاندان ہوتا، میرے بچے ہوتے اور میرے پاس کچھ پیسے بھی رکھے ہوتے۔ میں نے ایک اچھی زندگی گزاری ہوتی‘‘۔

دیوداسی کون ہوتی ہے؟

دیوداسیاں صدیوں سے جنوبی ہندوستانی ثقافت کا حصہ رہی ہیں اور ایک زمانے میں انہیں معاشرے میں باعزت مقام حاصل ہوا کرتا تھا۔ تب بہت سی دیوداسیاں تعلیم یافتہ ہوتی تھیں، انہیں کلاسیکل رقص اور موسیقی کی تربیت دی جاتی تھی اور یہ ایک آرام دہ زندگی گزارا کرتی تھیں۔ تب انہیں اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اپنے جنسی ساتھی کا انتخاب خود کر سکتی ہیں۔

مورخ گایتری آئیر دیوداسی کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”کم و بیش مذہبی طور پر منظور شدہ جنسی غلامی کا موجودہ تصور اصل نظام کا حصہ نہیں تھا‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ انیسویں صدی میں، برطانوی نوآبادیاتی دور میں، دیوداسی اور دیوی کے درمیان ہونے والا یہ مذہبی معاہدہ جنسی استحصال کے ایک ادارے میں تبدیل ہوا۔

بھارتی معاشرے میں ذات پات کی سخت درجہ بندی ہے اور نچلی ذات کے کئی غريب خاندانوں میں اس نظام کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ انہیں اپنی بیٹیوں کی ذمہ داری اٹھانا نہ پڑے۔

سن 1982ء میں بھیمپا کی آبائی ریاست کرناٹک میں اس عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا اور بھارتی سپریم کورٹ مندروں میں نوجوان لڑکیوں کے دیوداسی بنانے کے عمل کو ”شیطانیت‘‘ قرار دے چکی ہے۔

تاہم بھارت میں سرگرم انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق اب بھی خفیہ طور پر نوجوان لڑکیوں کو دیوداسی بنانے کا عمل جاری ہے۔ بھارت میں انسانی حقوق کے کمیشن نے گزشتہ برس لکھا تھا کہ اس مذہبی رسم پر پابندی کے چار عشرے بعد بھی کرناٹک میں 70 ہزار سے زائد دیوداسیاں موجود ہیں۔

جہیز کی روایت کی وجہ سے بھی بھارت میں لڑکیوں کو عام طور پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں