بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دھماکا، دو کمانڈو ہلاک

نئی دہلی (ڈیلی اردو) بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں سینٹرل ریزو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کمانڈوز کی بس پر ماؤ یا نکسل باغیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو فوجی کمانڈو ہلاک ہوگئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل ریزو پولیس فورس (نکسلیوں کا مقابلہ کرنے والے دستے) ’کوبرا‘ کے ایک ٹرک کو ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں نکسل باغیوں نے دھماکے سے اڑادیا۔

دھمتری پولیس کے ایس پی کے مطابق ضلع دھمتری کے امجر گاؤں کے جنگلات میں دوپہر کے وقت سیکیورٹی فورسز نے ایک نکسل باغی کو مقابلے میں ہلاک کرنے کے بعد اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا۔

جس کے جواب میں 3 بجے کے قریب ریاستی دارالحکومت رائے پور سے 400 کلو میٹر دور جھگرگنڈہ علاقے میں کیمپ سلج اور ٹیکرگڈم کے درمیان تیما پور کے قریب باغیوں نے فورسز کے ٹرک پر حملہ کردیا۔

سی آر پی ایف کی 201 بٹالین گشت پر تھی اور اس دوران متعدد کمانڈو موٹرسائیکل پر سوار تھے اور ہتھیاوں سے لیس ٹرک بھی ان کے ساتھ جارہا تھا جسے وہ کیمپ سلج سےٹیکرگڈم کی جانب لے جارہے تھے۔

اس دوران نکسلیوں کی جانب سے آئی ای ڈی دھماکا کیا گیا، جس کے نتیجے میں اترپردیش سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ شیلندرا اور کیرالہ کے 35 سالہ وشنو کی ہلاکت ہوئی۔

دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز کی مزید نفری وہاں بھیج دی گئی، ہلاک ہونے والے جوانوں کو کیمپ پہنچایا گیا اور باغیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں علیحدگی پسند دھڑوں کی کارروائیوں اور شورش کی وجہ سے ریاست آسام میں 10 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت عام لوگوں کی ہے۔

ماؤ باغی ہندوستان کی کم از کم 20 ریاستوں میں موجود ہیں تاہم گھنے جنگلات کی ریاستوں، چھتیس گڑھ، اڑیسہ، بہار، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں ان کا زیادہ اثر و رسوخ ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی متعدد ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں کام کررہی ہیں، جن میں ماؤ یا نکسل، یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام، بھارتی پنجاب میں سکھ علیحدگی پسند جبکہ جموں اور کشمیر کی بھی علیحدگی پسند تحریکیں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں