خار (ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں قومی امن جرگہ نے رات 9 بجے کے بعد بلا ضرورت نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
جرگہ کے اعلامیہ کے مطابق اگر رات 9 بجے کے بعد کسی شخص کا قتل یا مارا گیا تو اس کا خون معاف تصور کیا جائے گا اور پولیس اس قتل کی ایف آئی آر درج نہیں کرے گی۔
یہ فیصلہ باجوڑ میں شدید بدامنی کی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ جرگہ منتظمین نے کہا کہ کسی بھی شخص کو دوسرے گاؤں جانے کی ضرورت پڑے تو اسے وہاں کے لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ باجوڑ میں مزید بدامنی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
جرگہ میں ملک گل کریم خان، ملک شاہین خان، حاجی سردار، سید اخونزادہ چٹان، حاجی اکبر جان، شیخ جہانزادہ، خار بازار صدر واجد علی، شاہ نصیر خان سمیت دیگر درجنوں مشران شریک تھے۔
امن کے قیام کے لیے 8 دسمبر کو ودودیہ ہال میں ملاکنڈ ڈویژن کے تمام سیاسی و قبائلی عمائدین کا جرگہ منعقد ہوگا۔