363

بلوچستان: اورماڑہ میں کوسٹل ہائی وے پر بسوں سے اتار کر 14 مسافر قتل

کوئٹہ (ڈیلی اردو) بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب مسلح افراد نے 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لیویز ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بلوچستان کے علاقے اوماڑہ میں پیش آیا۔جہاں مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔ دہشت گردوں نے کراچی تا گوادر اور گوادر تا کراچی جانے والی بسوں کو روکا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے 5 بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کیا، بزی ٹاپ کے علاقے میں رات ساڑھے بارہ سے ایک بجے کے درمیان تقریباََ 15 سے 20 مسلح ملزمان کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔

لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ کل 16 مسافروں میں سے 14 کو قتل کیا گیا جب کہ دو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسافروں کا ہاتھ باندھ کر ایک لائن میں کھڑا کر کے قتل کیا گیا۔

بعد ازاں قتل کیے گئے افراد کی لاشیں نور بخش ہوٹل سے ملیں۔جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔مسلح افراد کی جانب سے ان افراد کو قتل کرنے کی وجوہات تاحال معلوم نہ ہو سکیں۔جب کہ مقتولین کی شناخت کے بارے میں بھی ابھی واضح نہیں کیا گیا۔

واقعے کے بعد جائے وقوع پر لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پہنچ گئے اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق قتل ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق سکیورٹی اداروں سے ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع اس بات کی تصدیق کرنے سے انکاری ہیں

ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے بھیس بدلنے کیلئے سکیورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور جاں بحق ہونے والوں میں سے بعض کا تعلق بھی سکیورٹی فورسز سے بتایا جاتا ہے۔

‏مقامی ذرائع کے مطابق دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والوں میں سے 9 کا تعلق پاکستان نیوی، ایک اہلکار کا تعلق پاکستان ائرفورس جبکہ دو کا تعلق پاکستان کوسٹ گارڈز سے بتایا جاتا ہے۔

بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگت (براس) نے اورماڑہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

میڈیا کو بھیجے گئے پیغام میں بلوچ علیحدگی پسند اتحادی تنظیموں کے ترجمان بلوچ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بحریہ، ائیر فورس اور کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں کے کارڈ دیکھنے کے بعد انھیں نشانہ بنایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں