216

بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) میں خامیوں کے بعد منصوبے کی بسوں میں بھی نقائص کی نشاندہی

پشاور (ڈیلی اردو) تبدیلی سرکار کی کارستانیاں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) میں خامیوں کے بعد پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ نے منصوبے کی بسوں میں بھی نقائص کی نشاندہی کردی۔

زرائع کے مطابق پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ نے بسوں کا معائنہ کرنے کے بعد پی ایم یو نے بسوں کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی ٹرانس پشاور کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بس میں خواتین کی نشستوں کے لیے پلیٹ فارم بین الاقومی معیار کے مطابق نہیں اور پلیٹ فارم اونچے ہونے سے خواتین کے گرنے یا پھسلنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ بسوں کی نشستوں پر کشن نہیں اور نہ ہی یہ آرام دہ ہیں جس سے طویل مسافت کرنے والے مسافر تھکان کا شکار ہوں گے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ بسوں میں ٹکٹ وینڈنگ مشین نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی فنیشنگ ٹھیک طور پر کی گئی ہے، دروازے کے اوپر نٹ بولٹ نظر آ رہے ہیں جب کہ دروازے کے اوپر لگی لائٹ بھی معیاری نہیں۔ گاڑی میں مسافروں کے سہارے کے لیے نصب ہینڈ گرپس ڈھیلے اور ٹرانسپرینٹ ہیں جنہیں چھت کے قریب ہونا چاہیے تھا جب کہ گاڑی میں کھڑے ہوکر سفر کرنے والوں کے لیے سپورٹ کالمز کی تعداد بھی کم ہے۔

خط میں خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ آگ بجھانے کے آلات بس کے دروازے کے قریب رکھے گئے ہیں جنہیں مسافروں کے درمیان لڑائی کی صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ معذور افراد کو بسوں میں سوار کرانے کے لیے آٹومیٹک کی بجائے مینول طریقہ کار رکھا گیا ہے جس سے معذور افراد کو بس پر سوار کرانے میں وقت لگے گا۔

دوسری جانب ٹرانس پشاور کے سی ای او فیاض خان کا کہنا ہے کہ بسیں بین الاقومی معیار کے مطابق ہیں، ہینڈگرپس کو ٹرانسپرینٹ اس لیے رکھا کہ ان پر اشتہار لگانے ہیں جب کہ وینڈنگ مشین 12 میٹر بسوں میں ہوتی ہیں جو لگا دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کوریڈور میں معذور مسافر آٹومیٹک طریقہ کار سے بس پر سوار ہوں گے جب کہ کوریڈور سے باہر چلنے والی بسوں میں انکو مینول طریقہ سے سوار کرایا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ کی انسپیکشن ٹیم نے پشاور میٹرو میں کئی خامیوں اور نقص کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد ایک خاتون بھی آزمائشی سروس کے دوران میٹرو بس کی ٹکر سے خاتون جاں بحق ہوگئی تھی۔

صوبائی انسپیکشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی منصوبہ مناسب منصوبہ بندی کے بغیر شروع کیا گیا، ڈیزائن میں تبدیلی کے باعث منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا اور عوام کے پیسے کو بی آر ٹی پر ضائع کیا گیا۔

صوبائی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ناقص منصوبہ بندی اور ڈیزائن پروجیکٹ کے کام میں غفلت برتی گئی اور فیزیبیلیٹی اسٹڈی میں خامیوں کے باعث منصوبے میں تبدیلیاں کی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں