16/December/2025

آسٹریلیا: یہودی تقریب پر حملے میں ملوث نوید اکرم کے داعش سے روابط کا انکشاف

👁️ 185 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آسٹریلیا: یہودی تقریب پر حملے میں ملوث نوید اکرم کے داعش سے روابط کا انکشاف

آسٹریلیا: یہودی تقریب پر حملے میں ملوث نوید اکرم کے داعش سے روابط کا انکشاف

سڈنی (ڈیلی اردو/اے بی سی نیوز) آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کی تحقیق کے مطابق اتوار کو سڈنی کے مشہور ساحل بونڈی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ملوث نوید اکرم کے آسٹریلیا میں سرگرم داعش (اسلامک اسٹیٹ) کے حامی نیٹ ورک سے دیرینہ روابط تھے، جن میں سڈنی کے ایک بدنام مذہبی رہنما سے تعلق بھی شامل ہے۔

 

تاہم حملے سے قبل 24 سالہ نوید اکرم کسی دہشت گردی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا، جبکہ اس کے والد ساجد اکرم کو بھی قانونی طور پر اسلحہ رکھنے سے نہیں روکا گیا۔ دونوں نے یہودی کمیونٹی کی ہنوکا تقریب پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہو گئے۔

 

نوید اکرم پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے کے بعد اس وقت پولیس کی نگرانی میں اسپتال میں زیر علاج ہے، جبکہ اس کے والد ساجد اکرم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔

 

اے بی سی کے مطابق آسٹریلیا کی اندرونی انٹیلی جنس ایجنسی اے ایس آئی او نے 2019 میں نوید اکرم کی جانچ پڑتال کی تھی، جب اس کے سڈنی میں قائم داعش سے منسلک ایک نیٹ ورک سے روابط سامنے آئے تھے۔ انسدادِ دہشت گردی کے حکام، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے بتایا کہ اس تفتیش میں نوید اکرم کے تعلقات وسام حداد نامی مذہبی رہنما سے بھی سامنے آئے، جن کا اثر آسٹریلیا میں متعدد نسلوں کے جہادی عناصر پر رہا ہے۔

 

وزیراعظم انتھونی البانیزی نے پیر کی شب اے بی سی کے پروگرام 7.30 میں کہا کہ اے ایس آئی او نے چھ ماہ کی تفتیش کے دوران باپ بیٹے میں سے کسی کے بھی انتہاپسند ہونے کے شواہد نہیں پائے۔

 

وسام حداد پر تاحال کسی دہشت گردی کے مقدمے میں فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، تاہم ان کے آسٹریلوی دہشت گردوں اور بیرونِ ملک جہادی رہنماؤں سے دیرینہ روابط رہے ہیں۔ رواں برس ایک فور کارنرز تحقیقاتی رپورٹ میں انہیں آسٹریلیا کے داعش نواز نیٹ ورک کا روحانی رہنما قرار دیا گیا تھا۔

 

اے ایس آئی او کے سابق خفیہ ایجنٹ، جن کا کوڈ نام "مارکس" تھا، نے فور کارنرز کو بتایا کہ انہوں نے بارہا ایجنسی کو خبردار کیا تھا کہ وسام حداد بینک اسٹاؤن میں واقع اپنے ادارے المدینہ دعوہ سینٹر میں نوجوانوں کو انتہاپسند نظریات کی تلقین کر رہے ہیں۔

 

وسام حداد نے اپنے وکیل کے ذریعے بیان میں بونڈی بیچ فائرنگ سے کسی بھی قسم کے علم یا تعلق کی سختی سے تردید کی ہے۔

 

وسام حداد یہودیوں کے خلاف پرتشدد اور سام دشمن خطبات کے باعث بدنام رہے ہیں، جن میں مذہبی حوالوں کے ذریعے یہودیوں کے قتل کا ذکر بھی شامل رہا ہے۔ جولائی میں فیڈرل کورٹ نے قرار دیا تھا کہ انہوں نے المدینہ دعوہ سینٹر میں دیے گئے خطبات کے ذریعے نسلی امتیاز کے قانون کی خلاف ورزی کی۔

 

سینئر حکام کے مطابق نوید اکرم المدینہ دعوہ سینٹر میں عبادت کے لیے آتا تھا اور وسام حداد کی تنظیم دعوہ وین کے لیے اسٹریٹ پریچر کے طور پر بھی سرگرم رہا۔

 

دعوہ وین کی خیراتی حیثیت جون میں ختم کر دی گئی تھی، جب فور کارنرز نے انکشاف کیا کہ یہ تنظیم سڈنی کی سڑکوں پر نوجوانوں کو انتہاپسند بنا رہی تھی جبکہ حکومتی ٹیکس سہولیات سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔

 

اے بی سی نے ایسی ویڈیوز بھی حاصل کی ہیں جن میں نوید اکرم 2019 کے وسط میں، 17 سال کی عمر میں، ایک متعلقہ اسٹریٹ دعوہ گروپ کے ساتھ تبلیغ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک ویڈیو میں وہ اسکول کے بچوں سے کہتا ہے کہ

 

“اللہ کا قانون ہر چیز سے زیادہ اہم ہے — نوکری، اسکول، سب سے… میں اس پر جتنا زور دوں کم ہے۔”

 

ایک اور ویڈیو میں وہ کہتا ہے کہ خدا اپنی راہ میں کیے گئے اقدامات کا اجر دیتا ہے۔

 

مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات شدت پسندی کے زمرے میں نہیں آتے۔

 

تاہم چند ہی ہفتوں بعد پولیس نے اسی اسٹریٹ دعوہ نیٹ ورک سے جڑے ایک داعش سیل پر چھاپہ مارا۔ گرفتار ہونے والوں میں نوید اکرم کا ساتھی آئزک الماطری بھی شامل تھا، جسے بعد ازاں خود کو آسٹریلیا میں داعش کا کمانڈر قرار دینے اور دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔

 

وزیراعظم البانیزی کے مطابق اے ایس آئی او نے اکتوبر 2019 میں نوید اکرم کے خلاف باضابطہ تفتیش شروع کی۔

 

انسدادِ دہشت گردی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایجنسی کو نوید اکرم کے تعلقات داعش کے نوجوان بھرتی کرنے والے یوسف اوینات سے بھی تشویش کا باعث بنے تھے۔ اوینات بعد ازاں کم عمر افراد کو حملوں پر اکسانے کے جرم میں تقریباً چار سال قید کی سزا کاٹ چکا ہے۔ وہ المدینہ دعوہ سینٹر میں نوجوانوں کا رہنما اور نوید اکرم کے ساتھ اسٹریٹ پریچر بھی رہا۔

 

رہائی کے بعد اوینات اگست میں دوبارہ منظرِ عام پر آیا، جب اسے سڈنی ہاربر برج پر غزہ جنگ کے خلاف مظاہرے کے دوران جہادی تنظیموں سے منسوب سیاہ پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔

 

نوید اکرم کے انتہاپسند عناصر سے وسیع روابط نے اس بات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ اس کے والد کو اسلحہ رکھنے کا لائسنس کیسے حاصل رہا۔

 

آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے سابق انٹیلی جنس کوآرڈینیٹر اور آسٹریلین اسٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جان کوائن نے کہا:“یہ نظام کی ناکامی ہے۔ ہمیں ایک رائل کمیشن کی ضرورت ہے۔ 

 

صرف بونڈی میں ہونے والے واقعے اور اس سے پہلے کے حالات کی نہیں بلکہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران بڑھتی ہوئی سام دشمنی، نفرت انگیز تقاریر اور نظریاتی جرائم کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے، جنہیں آزادیِ اظہار کے نام پر نظرانداز کیا گیا۔”

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C