اسرائیلی حملوں میں میجر سمیت چار ایرانی فوجی ہلاک
👁️ 50 بار دیکھا گیا
اسرائیلی حملوں میں میجر سمیت چار ایرانی فوجی ہلاک
تہران + تل ابیب (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایران میں موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے ذریعے ایران نے اسرائیل پر حال ہی میں کیے گئے میزائل حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ’یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو لوگ اسرائیلی ریاست کے لیے خطرہ بنیں گے انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘
ایرانی فوج نے اسرائیلی حملوں میں اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی فوج نے کل رات کے اسرائیلی حملوں میں مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے جس سے ہلاکتوں کی کل تعداد چار ہو گئی ہے۔
ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں پاسدارنِ انقلاب نے کہا ہے کہ پہلے جن دو سپاہیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی ان کے علاوہ دو اور فوجی سجاد منصوری اور مہدی ناغاوی بھی ان حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے مطابق میجر جہاندیہ اور استوار شاہروخفار ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات ابھی تک ایرانی حکام اور میڈیا کی جانب سے شائع نہیں کی گئیں کہ یہ دونوں فوجی دستے کیسے مارے گئے اور وہ کہاں موجود تھے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی دفاعی افواج نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر سنیچر کے روز ایران پر فضائی حملے کیے اور اس کے طیاروں نے میزائل بنانے والے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ جن میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہاں وہ میزائل بنائے جاتے تھے جو ایران نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل پر داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور اضافی ایرانی فضائی صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران میں نشانہ بنائی گئی تنصیبات کا چناؤ ’بہت سے دستیاب اہداف‘ میں سے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر مزید اہداف کا چناؤ کر کے ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایرانی میڈیا اور نیوز چینلز پر جو پیغام دیا جا رہا ہے وہ واضح ہے: زندگی معمول کی طرف لوٹ آئی ہے۔
ایرانی میڈیا پر شہروں اور تیل کی تنصیبات کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اسرائیل کے حملے کو نہ صرف دبانا چاہتی ہے بلکہ اس کے اثرات کی اہمیت کو بھی کم کرنا چاہتی ہے۔
ایک بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران کسی بھی غیرملکی جارحیت کے خلاف ’حقِ دفاع رکھتا ہے۔‘
صرف یہی نہیں ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’متعدد فوجی اڈوں پر‘ اسرائیل کے حملے کی مذمت بھی کی اور اسے ’بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’خطے اور اس سے باہر امن سے محبت کرنے والے ممالک‘ سے درخواست کی کہ وہ اسرائیلی کارروائی کی مذمت کریں۔
ایران کی ایئر ڈیفینس کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے تہران، ایلام اور خوزستان میں ہوئے ہیں۔
ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ’کچھ مقامات پر محدود نقصانات‘ ہوئے ہیں۔
ایرانی فوج کے ایک بیان کے مطابق اسرائیلی حملوں میں چار فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان فوجیوں کی موت کس مقام پر ہوئی، تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان کی موت ’مجرم صہیونی حکومت کے میزائل روکتے ہوئے ہوئی ہے۔‘
ایرانی محکمہ شہری دفاع نے شہریوں کو موبائل فونز پر بھیجے گئے پیغامات میں مشورہ دیا کہ وہ ’غیرتصدیق شدہ خبروں‘ پر توجہ نہ دیں اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ پاسدارانِ انقلاب کے سائبر ڈویژن نے خبردار کیا کہ کوئی بھی شہری ’دشمن میڈیا‘ کو کوئی اطلاع یا تصویر نہ بھیجے کیونکہ اسے جرم تصور کیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا تھا کہ: ’شہریوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ صہیونی ریاست سے منسلک میڈیا کو تصاویر یا اطلاعات بھیجنا جُرم ہے۔‘
ایران میں انقلاب کے بعد ایرانی حکومتیں ’اسرائیل‘ کو اس کے نام سے پکارنے سے اجتناب برتتی آئی ہیں اور ان کی جانب سے اسرائیل کے لیے ’صہیونی ریاست‘ جیسے الفاظ ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔
تمام دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود بھی بی بی سی فارسی ایک ایرانی شہری سے بات کرنے میں کامیاب رہا ہے جنھوں نے اسرائیل کے حملے کے بعد ایران میں موجودہ ماحول کی تصویر کشی کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل پر ایران کے حملے کے 21 دنوں کے دوران اسرائیل کے متوقع حملے کی تیاری نے ایران کی معیشت اور اس کے عوام کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔‘
بی بی سی کو انھوں نے بتایا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کا ملک کی معیشت اور لوگوں پر ’تباہ کُن‘ اثر پڑا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کشیدگی کے سبب ناصرف غیرملکی پروازوں کے ٹکٹ مہنگے ہوئے بلکہ ایرانی ریال کی قیمت میں بھی 20 فیصد کمی آئی ہے۔
ان کے خیال میں اسرائیلی حملوں کا مرکزی ہدف ایران کی معیشت تھی، جبکہ سنیچر کے حملے صرف ایران پر ’سٹریٹیجک فوقیت‘ حاصل کرنے کی اسرائیلی کوشش تھی۔
اسرائیلی حملے میں ایرانی نقصانات کا ابتدائی جائزہ
پاسدارنِ انقلاب سے قریب تصور کیے جانے والے خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل کے تہران، خوزستان اور ایلام میں حملے ’کمزور‘ تھے۔
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ایران میں عسکری مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور اسے کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
تاہم ان خبروں میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے فضائی دفائی نظام اور پہلے سے لیے گئے ایرانی اقدامات کے سبب اسرائیلی حملوں میں ’کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔‘
تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ’باخبر ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ 20 مقامات پر حملوں کا دعویٰ اسرائیل کے ’سائیکولوجیکل آپریشن‘ کا حصہ ہے اور یہ کہ اس آپریشن میں 100 اسرائیلی طیاروں کے حصہ لینے کی اطلاعات
اس ذرائع کے مطابق اسرائیل اپنے کمزور حملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب اسنا نیوز ایجنسی نے ’چھوٹی ریاست کی بیوقوفی‘ کے عنوان سے لکھا گئے اداریے میں کہا ہے کہ: ’ایران کسی بھی جارحیت کے خلاف ردِ عمل دینے کا حق رکھتا ہے اور وہ اسرائیل کی کارروائی کا مناسب جواب دے گا۔‘
رواں مہینے کی پانچ تاریخ کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران نہ ہچکچاتے ہیں اور نہ جلدی بازی کرتے ہیں۔‘
ان کا یہ بیان حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی موت کے ایک ہفتے اور اسرائیل پر ایرانی حملے کے تین بعد منظرِ عام پر آیا تھا۔
خیال رہے 2 اکتوبر کی رات کو پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ انھوں نے اسماعیل ہنیہ، حسن نصراللہ اور عباس نلفوروشن کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل کی طرف درجنوں ہائپرسونک میزائل داغے ہیں۔
اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے متعدد بار کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے میزائل حملوں کا جواب دے گا۔
’نظامِ زندگی معمول کی طرف لوٹ آیا‘
ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد متعدد حکام کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملک میں نظامِ زندگی ’معمول‘ کی طرف لوٹ آیا ہے۔
ایرانی وزارتِ تعلیم کے مطابق 27 اکتوبر کو تمام سکول کھلے رہیں گے اور تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔
گذشتہ رات ایران میں بین الاقوامی اور ڈومیسٹک پروازیں تعطل کا شکار ہوئی تھیں۔ امام خمینی ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سلام ایئر، الجزیرہ، فلائی دُبئی اور ایئر عربیہ کی پروازیں اب بھی معطل ہیں لیکن توقع ہے کہ صبح تک تمام پروایں بحال ہو جائیں گی۔
انھوں نے تصدیق کی کہ ایران میں اب ڈومیسٹک پروازیں بلاتاخیر چل رہی ہیں۔
’آئل ریفائنریوں کو نقصان نہیں پہنچا‘
تہران اور آبادان کی آئل ریفائنریوں پر تعینات حکام نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ان تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور وہ معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں۔
تہران ریفائنری کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ریفائنری پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور وہاں پروڈکشن معمول کے مطابق جاری ہے۔‘
دوسری جانب آبادان ریفائنری کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ان کے آپریشن بھی معمول کے مطابق جاری ہیں۔ انھوں نے وضاحت کی کہ اہلِ علاقہ نے جن دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں وہ دراصل دفاعی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔
گیس سٹیشن آپریٹرز کے ایک ترجمان کہتے ہیں کہ اسرائیلی حملوں کے سبب تیل کی سپلائی میں کوئی رُکاوٹ نہیں آئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل پر 200 کے قریب بیلسٹک میزائل داغے اور ایرانی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ ’اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو ایران مزید حملے کرے گا۔‘
اس سے قبل رواں سال اپریل میں شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی جانب ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔
ایران نے مختصر تعطل کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کر دیں
ایران نے سنیچر کے روز ملک میں متعدد فوجی مقامات کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے کے بعد مختصر معطلی کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی نے سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے ’سنیچر ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9:00 بجے سے پروازیں معمول پر آجائیں گی۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو "جہنم برپا کر دینگے"، امریکی صدر ٹرمپ
18/June/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ، معمر سکھ میاں بیوی ہلاک
18/June/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
یوکرین جنگ پر جی سیون کا سخت فیصلہ، روس کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان
18/June/2026 👁️ 106 بار دیکھا گیا
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ بفر زون کم کردیا، پابندیوں میں نرمی کا اعلان
18/June/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد نئے فضائی حملے
18/June/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
ٹانک میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، خاتون سمیت 4 افراد زخمی
18/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8832 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4567 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3276 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2456 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2098 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1901 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C