امریکہ، لندن، کینیڈا سمیت کئی ممالک میں طالبان مخالف مظاہرے
👁️ 108 بار دیکھا گیا
امریکہ، لندن، کینیڈا سمیت کئی ممالک میں طالبان مخالف مظاہرے
واشنگٹن (ڈیلی اردو/وی او اے) امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے لے کر لندن، ٹورنٹو اور دنیا کے کئی دیگر شہروں میں افغان کارکنان نے طالبان کی خواتین مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
افغان تارکین وطن نے ان مظاہروں میں طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
اگرچہ ان مظاہروں میں کارکنان کی تعداد کم تھی۔ تاہم افغانستان میں خواتین پر طالبان کی بڑھتی پابندیوں کے خلاف مظاہروں کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔
چودہ جنوری کو 100 سے کم مظاہرین واشنگٹن ڈی سی کے فارراگٹ اسکوائر پارک میں جمع ہوئے اور طالبان کی جانب سے افغان خواتین کے یونیورسٹیز اور کام پر جانے پر عائد پابندی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اسی روز لاس اینجلس میں شدید بارش کے باوجود مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے بھی احتجاج کیا۔
لاس اینجلس کے ٘مظاہرے میں شریک ایک افغان امریکی کمیونٹی آرگنائزر آرش عزیز زادہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ”ہم نے طالبان کی طرف سے پیدا کردہ صنفی نسلی امتیاز کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔”
ہم افغان خواتین کی آواز بننا چاہتے ہیں’
انسانی حقوق کے گروپس نے طالبان حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ کابل کے موجودہ حکمرانوں نے احتجاج پر پابندی لگا رکھی ہے ، کارکنوں کو حراست میں لیا ہوا ہے اور ان پر تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا رکھی ہے۔
البتہ طالبان ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ”انہوں نے ملک کو امریکی تسلط سے آزاد کرایا ہے۔”
لیکن افغانستان سے باہرمظاہرین کا کہنا ہے کہ ”وہ افغان خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جن کے حقوق طالبان کی غیر جمہوری حکومت میں کچلے جا رہے ہیں۔”
ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک محقق اور سابق افغان سفارت کار اسیلا وردک کے بقول ”ہم افغان خواتین کی آواز بننا چاہتے ہیں، ہم دنیا کے لیے ان کا پل بننا چاہتے ہیں۔”
ان مظاہروں کے پُر اثر ہونے کے حوالے سے تھنک ٹینک کارنیگی انڈومینٹ سے منسلک گلوبل پروٹسٹ ٹریکر تھامس کیروتھرز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ملک سے باہر حکومت مخالف مظاہروں کا اتنا اثر نہیں ہوتا اور جابر حکومتیں عموماً ایسے واقعات کی خبروں کو دبانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی اور یورپی حکام نے اکثر افغان خواتین کے حقوق کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور طالبان رہنماؤں اور اداروں پر سفری اور اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو طالبان کی جانب سے خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے روکنے پربامعنی کارروائی کرنی چاہیے۔
سابق افغان سفارت کار اسیلا وردک کہتے ہیں کہ افغان خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے صرف بیانات جاری کرنا کافی نہیں ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری کو افغان خواتین کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں وہ طالبان سے براہ راست رابطے اور احتساب کا مطالبہ کرسکیں۔
لاس اینجلس میں ایک سرگرم کارکن عزیز زادہ کہتے ہیں کہ طالبان کی سمجھی جانے والی بدگمانی کا ایک بامعنی ردعمل امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے افغان باشندوں کے لیے مزید پناہ اور تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
ان کے بقول”اگر افغان لڑکیاں افغانستان میں نہیں سیکھ سکتیں تو انہیں امریکہ یا کسی اور جگہ ایسا کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔”
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سےخواتین رہنما اور کارکن سمیت ڈیڑھ لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو ملک سے نکالا جا چکا ہے اور انہیں امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک میں پناہ دی گئی ہے۔
افغانستان سے نکلنے والے بہت سے لوگوں نے طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں تبدیلی کی اعلیٰ سطح پر وکالت کی ہے۔
ملک چھوڑنے والے کچھ افغان کارکنوں نے اعلیٰ یونیورسٹیوں میں باوقار ایوارڈز اور فیلوشپس حاصل کی ہیں جس سے انہیں ایسے پلیٹ فارمز ملے ہیں جہاں سے وہ نامور میڈیا آؤٹ لیٹس کے لیے لکھ سکتے ہیں اور اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں۔
ان کوششوں کے ساتھ ساتھ ایسے خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ مغربی ممالک میں سرگرم کارکنوں کو افغانستان کے اندر خواتین کے مقابلے میں بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں کابل کے ایک تجزیہ کار عبید اللہ باہیر کہتے ہیں کہ افغانستان سے باہر کی جانے والی کوششوں کو ملک کے اندر موجود افراد کی سرگرمیوں کے لیے باعث تکمیل بننا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ضمن میں بیانیے کو کسی کا یرغمال نہیں بننے دینا چاہیے اور نہ ہی غیر حقیقی حل پیش کیے جانے چاہیں۔
جرمنی میں مقیم سابق افغان اہلکار ظریفہ غفاری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ”مجھے یقین ہے کہ مظاہروں کا صورتِ حال پر اثر پڑتا ہے۔”
ادھر طالبان حکام نے بیرون ملک افغان مظاہروں کو بڑی حد تک نظر انداز کیا ہے یا مظاہرین کو مغربی کٹھ پتلی قرار دیا ہے۔ تاہم افغانستان میں تقریباً تمام افغان شہریوں نے اپنی زندگیوں کو مصائب زدہ قرار دیا ہے ۔
تحقیقی ادارے پیو کے ایک حالیہ سروے کے مطابق افغان شہریوں کی اکثریت نے کہا ہے کہ طالبان کے زیر تسلط خواتین کو توہین کا سامنا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدے پر اندرونی اختلافات سامنے آ گئے
13/June/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا، وزیراعظم شہباز شریف
13/June/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے مجوزہ معاہدے کا اسرائیل حصہ نہیں، وزیراعظم نتین یاہو
13/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
بنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات، دو پولیس اہلکار ہلاک
13/June/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر ’بہترین‘ سمجھوتہ طے پا گیا، امریکی صدر
13/June/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
لکی مروت: مسجد پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، حملہ آور مارا گیا، 2 افراد ہلاک
13/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8815 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4525 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3257 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2436 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2079 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1883 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C