21/February/2026

امریکہ کے طیارہ بردار بیڑے ایران کے قریب، خطے میں جنگ کے بادل گہرے

👁️ 116 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ کے طیارہ بردار بیڑے ایران کے قریب، خطے میں جنگ کے بادل گہرے

امریکہ کے طیارہ بردار بیڑے ایران کے قریب، خطے میں جنگ کے بادل گہرے

یروشلم (ڈیلی اردو) مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جسے تجزیہ کار محض علامتی دباؤ نہیں بلکہ ممکنہ جنگی تیاریوں کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

 

یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز کا ایرانی پانیوں کے قریب پہنچنا ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو آخری بار آبنائے جبل الطارق کے قریب دیکھا گیا تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ بھی مشرق کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے تاکہ ممکنہ آپریشنز میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

 

امریکی بحری بیڑوں کے ساتھ دیگر جنگی سازو  سامان اور معاون یونٹس کی خطے میں تعیناتی سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ واشنگٹن مرحلہ وار فوجی آپشنز کو یکجا کر رہا ہے۔ اگرچہ عسکری ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تعیناتیاں اکثر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے کی جاتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں تعطل کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

 

مذاکرات یا ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ؟

 

ایرانی قیادت کے نزدیک امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط دراصل مذاکرات نہیں بلکہ یکطرفہ مطالبات ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے یورینیئم افزودگی کے مکمل خاتمے، بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت روکنے اور داخلی طرزِ حکمرانی میں تبدیلی جیسے نکات سامنے لائے گئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی عوامی بیانات میں ان مطالبات کا ذکر کر چکے ہیں۔

 

تہران کا مؤقف ہے کہ یہ نکات اس کے قومی سلامتی ڈھانچے کا بنیادی حصہ ہیں۔ خامنہ ای کی قیادت میں ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری صلاحیت نہ صرف دفاعی توازن برقرار رکھنے بلکہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں سفارتی برتری فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔

 

ایران دہائیوں سے ایک ایسے علاقائی نیٹ ورک کی تشکیل کا دعویٰ کرتا ہے جسے وہ ’مزاحمتی محور‘ کہتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد ممکنہ محاذ آرائی کو ایرانی سرحدوں سے دور رکھنا اور دباؤ کو اسرائیل کے قریب منتقل کرنا بتایا جاتا ہے۔

 

تزویراتی حساب کتاب اور ممکنہ خطرات

 

ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کے سامنے دو بڑے آپشنز ہیں: یا تو امریکی شرائط تسلیم کر کے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو محدود کرے، یا سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے ممکنہ فوجی تصادم کا خطرہ مول لے۔

 

بعض حلقوں کے نزدیک محدود نوعیت کی جنگ، چاہے مہنگی کیوں نہ ہو، مکمل تزویراتی پسپائی سے کم نقصان دہ سمجھی جا سکتی ہے۔ تاہم اس اندازے میں سنگین خطرات پوشیدہ ہیں۔ کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کے ابتدائی مراحل میں ایرانی عسکری قیادت یا حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے داخلی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 

اگر ایرانی قیادت کو براہِ راست نقصان پہنچتا ہے تو جانشینی کا عمل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سکیورٹی اداروں پر حملوں کی صورت میں ریاستی مشینری کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی اور عوامی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے۔

 

واشنگٹن کیلئے بھی پیچیدہ منظرنامہ

 

دوسری جانب امریکی عسکری برتری واضح ہے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں منصوبوں کے مطابق نہیں چلتیں۔ اہداف، دورانیے اور سیاسی نتائج کے حوالے سے غلط اندازے تنازعے کو وسیع تر علاقائی بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے اندرونی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچتا ہے تو اس سے فوری استحکام کی ضمانت نہیں ملے گی بلکہ اقتدار کا خلا نئے اور غیر متوقع خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔

 

معاشی پہلو بھی اس کشیدگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کی معیشت پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں اور مالی دباؤ کا شکار ہے۔ تیل کی برآمدات یا بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان مزید بحران کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

 

سخت مؤقف اور محدود گنجائش

 

موجودہ حالات میں تہران کا سخت مؤقف بیک وقت بیرونی سطح پر پختہ ارادے کا اظہار اور اندرونی سطح پر طاقت کا مظاہرہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس سے سمجھوتے کی گنجائش محدود ہو رہی ہے۔

 

واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے یہ ایک نازک مرحلہ ہے۔ ایک جانب سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، دوسری جانب عسکری تیاریوں کی رفتار اس خدشے کو بڑھا رہی ہے کہ اگر کسی بھی فریق نے اپنے موقف میں لچک نہ دکھائی تو کشیدگی محدود تصادم سے بڑھ کر وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C