26/April/2025

ایران میں بیلسٹک میزائل فیول کی کھیپ میں دھماکا، 10 افراد ہلاک، 800 زخمی

👁️ 90 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں بیلسٹک میزائل فیول کی کھیپ میں دھماکا، 10 افراد ہلاک، 800 زخمی

ایران میں بیلسٹک میزائل فیول کی کھیپ میں دھماکا، 10 افراد ہلاک، 800 زخمی

تہران (ڈیلی اردو رپورٹ) ایرانی حکام کے مطابق آج بروز ہفتہ ملک کے جنوب میں بندر عباس شہر کے قریب واقع شہید رجائی بندرگاہ پر ایک شدید دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے آگ پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود آگ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق آگ کی زد میں آنے والے کنٹینر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سُنائی دے رہی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس پر دھوئیں کے بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا ہے اور بندر عباس ایمرجنسی سروسز کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اب تک 800 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زخمیوں کو بندر عباس کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس علاقے میں زیادہ تر دفتری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بندرگاہ کے ایک ملازم نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’متعدد ملازمین اب بھی ان منہدم چھتوں کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں اور ہم انھیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ایران کے ریسکیو ادارے کے سربراہ بابک محمودی نے سرکاری ٹی وی پر ہلاکتوں کا اعلان کیا، جس سے قبل سرکاری میڈیا میں بتایا جا رہا تھا کہ اس دھماکے میں 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل موصولہ اطلاعات میں مقامی ایمرجنسی سروسز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ درجنوں زخمی افراد کو طبی مراکز منتقل کیا گیا ہے۔

فی الحال حکام کی جانب سے دھماکے کی وجہ کے بارے میں کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا میں اتنا بتایا گیا ہے کہ اس دھماکے کا سبب انرجی انفراسٹرکچر نہیں اور نہ ہی اس واقعے میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو کسی قسم کا نقصان پہنچا ہے۔

ابتدائی طور پر دھماکے کو ناقص کیمیکل اسٹوریج اور حفاظتی اقدامات کی کمی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسے بندرگاہ پر موجود ان کیمیکلز کی ایک کھیپ سے منسلک کیا جا رہا ہے، جو میزائل پروپیلنٹ بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔

پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی ایمبری کے مطابق اس بندرگاہ پر مارچ میں چین سے دو جہازوں میں ’’سوڈیم پرکلوریٹ راکٹ فیول‘‘ کی ایک کھیپ پہنچی تھی۔ جنوری میں فنانشل ٹائمز نے بھی اس حوالے سے خبر نشر کی تھی۔ اس ایندھن کو ایران کے میزائل اسٹاکس کے لیے استعمال کیا جانا تھا، جن میں غزہ جنگ کے دوران تہران کی جانب سے اسرائیل پر براہ راست حملوں کے بعد کمی آئی تھی۔

ایمبری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’یہ آگ مبینہ طور پر سالڈ فیول کی ایک کھیپ کی غیر مناسب ہینڈلنگ کے نتیجے میں لگی۔ اس فیول کو ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔‘‘

اب تک ایران کی جانب سے اس کھیپ کی موصولی کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت داخلہ نے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خبر رساں ادارے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی دھماکے کے بعد کی کچھ ویڈیوز میں سیاہ دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ دیگر ویڈیوز میں دھماکے کی جگہ سے میلوں دور عمارتوں میں شیشے ٹوٹتے ہوئے دیکھے گئے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک اہلکار مہرداد حسن زادہ نے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ایمرجنسی سروسز کے اہلکار دھماکے کی جگہ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ علاقے سے لوگوں کے انخلا کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

حسن زادہ کے مطابق یہ دھماکہ بندرگاہ پر موجود ایک کنٹینر میں ہوا۔

علاوہ ازیں ایران کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں ایک عمارت گر گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

خطے میں کرائسز مینجمنٹ سے منسلک اہلکار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’اس دھماکے کی وجہ شہید رجائی بندرگاہ میں سٹور کیے گئے متعدد کنٹینرز میں ہونے والا دھماکہ ہے۔‘

عالمی میریٹائم رسک فرم ایمبرے انٹیلیجنس کے مطابق متاثرہ کنٹینرز میں مبینہ طور پر ایرانی میزائلوں میں استعمال ہونے والا سالڈ فیول موجود تھا۔ ان کے مطابق ’یہ آگ سالڈ فیول کی شپمنٹ کی نامناسب ہینڈلنگ کی وجہ سے لگی۔‘

کمپنی کے مطابق اسے دھماکے سے پانچ ناٹیکل میل کے فاصلے پر 12 مرچنٹ بحری جہاز موجود تھے جن میں سے سات بندرگاہ پر موجود تھیں۔ بی بی سی تاحال ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

شہید رجائی ایران کی سب سے بڑی کمرشل ہندرگاہ ہے جو ملک کے جنوب میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جسے تیل کی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ بندرعباس شہر کے مغرب میں 20 کلومیٹر دور موجود ہے اور ہرموزگان صوبے کا دارالحکومت ہے۔ ایران کی قومی آئل پروڈکشن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کا ملک کی آئل ریفائنریز، فیول ٹینکس اور پائپ لائنز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ دھماکہ اتنا بڑا تھا کہ رہائشیوں کو اس کی آواز اور احساس 50 کلومیٹر دور تک بھی ہوا۔

ایرانی وزارت صحت کی جانب سے صوبے ہرمزگان کی انتظامیہ کو ایک مراسلے بھیجا گیا ہے کہ جس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ دھماکے کے بعد صوبے کے مختلف حصوں میں امونیا، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جیسے کیمیکلز کے اخراج کے امکان کے پیش نظر شہریوں کے لیے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا جائے۔

مراسلے میں صوبے بھر کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور کھڑکیاں دروازے بند رکھیں۔ تاہم اسی کے ساتھ ساتھ بندرگاہ کے قریب کے علاقوں میں رہنے والوں کو این 95 اور پی 2 ماسک کے استعمال کا بھی کہا گیا ہے۔

اس سلسلے میں صوبے ہرمزگان کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے ادارے کی جانب سے یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ بندر عباس میں تمام سکول، یونیورسٹیاں اور دفاتر 27 اپریل یعنی اتوار کے روز بند رہیں گے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ’دھماکے کی وجہ سے ماحول میں بڑھتی آلودگی کی سطح‘ کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

جوہری مذاکرات کے دوران شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکے کے بعد سے اس میں اسرائیل کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم اسرائیل کے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کا اس دھماکے میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

تاحال اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس بارے میں باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شہید رجائی بندرگاہ پر سنہ 2020 میں اسرائیل کی جانب سے سائبر حملہ کیا گیا تھا۔ ان حملوں کو ایرانی حکام کی جانب سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تھا تاہم اس کے بعد اس اہم بندرگاہ پر سامان کی نقل و حرکت میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس مرتبہ اس حوالے سے قیاس آرائیاں امریکی میڈیا میں مبینہ طور پر چین سے ایران آنے والے سامان کے حوالے سے تھیں۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کنیٹنرز میں مبینہ طور پر کیمکلز موجود تھے۔

اس حوالے تاحال کوئی مصدقہ رپورٹس موجود نہیں ہیں کہ ایسے مواد کے ویئر ہاؤسز شہید رجائی پورٹ پر موجود ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C