بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے مقابلے کیلئے ایک نئی فورس تشکیل دی جائے گی، پینٹاگان
👁️ 111 بار دیکھا گیا
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے مقابلے کیلئے ایک نئی فورس تشکیل دی جائے گی، پینٹاگان
واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے ایف پی/اے پی) امریکہ اور دوسرے متعدد ممالک بحیرہ احمر سے گزرنے والے بحری جہازوں کو یمن کےحوثیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں ڈرون اور میزائیل حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک نئی فورس تشکیل دے رہے ہیں۔ اس بات کا اعلان امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے منگل کو بحرین میں کیا۔
Today, I convened a virtual ministerial with Ministers, Chiefs of Defense, and senior representatives from 43 countries and NATO and the EU to discuss the increased Houthi threat to maritime security in the Red Sea. I also reaffirmed our commitment to freedom of navigation and… pic.twitter.com/RhuYeYUtHK
— Secretary of Defense Lloyd J. Austin III (@SecDef) December 19, 2023
اے ایف پی کے مطابق یمن میں ایران کی پشت پناہی کے حامل حوثی باغیوں نے منگل کے روز کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے ایک نئی میری ٹائم پروٹیکشن فورس کی تشکیل کے اعلان کے باوجود بحیرہ احمر میں حملے نہیں روکیں گے۔
ایک سینئیر حوثی عہدے دار محمد ال بوخیتی نے ایکس( سابق ٹوئٹر) پر کہا کہ، اگر امریکہ تمام دنیا کو متحرک کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا تو بھی ہماری فوجی کارروائیاں نہیں رکیں گی۔ بخیتی نے کہا کہ باغی اپنے حملے صرف اسی صورت میں روکیں گے اگر غزہ میں اسرائیل کے جرائم رک جائیں اور محصور آبادی تک خوراک ، ادویات اور ایندھن کو پہنچنے دیا جائے۔
ان حملوں کی سنگینی کے پیش نظر ،جن میں سےبیشتر نے بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا ہے، متعدد شپنگ کمپنیوں نے اپنے بحری جہازوں کو اس وقت تک سفر اور آبنائے باب المنداب میں داخل ہونے سے روک دیا ہے جب تک سیکیورٹی کی صورتحال ٹھیک نہ ہو جائے۔
امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈنے پیر کے روز کمرشل بحری جہازوں پر دو اور حملوں کی خبر دی۔ فوج نے کہا کہ یمن کے قریب ایک ٹینکر پر ایک ڈرون اور میزائل کا حملہ ہوا اور لگ بھگ اسی وقت قریب ہی ایک مال بردار بحری جہاز نے پانی میں کسی دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کی خبر دی۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بحرین میں جاری ایک بیان میں کہا کہ “ یہ ایک بین الاقوامی چیلنج ہے جو اجتماعی اقدام کا متقاضی ہے۔ اس لیے آج میں آپریشن پراسپیریٹی گارڈین کی تشکیل کا علان کر رہا ہوں جو سیکیورٹی کا ایک اہم نیا ملٹی نیشنل اقدام ہے۔ “
آسٹن نے اعلان کیا کہ اس نئے مشن میں امریکہ کے ساتھ برطانیہ، بحرین، کینیڈا، فرانس ،اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے، سے شیلز اور اسپین شامل ہوں گے۔
ان میں سے کچھ ملک مشترکہ گشت کریں گے جب کہ دوسرے جنوبی بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں انٹیلی جنس کی معلومات فراہم کریں گے۔
محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار نے نئے مشن کی مزید تفصیلات کے بارے میں، جن کا عوامی طو ر پر اعلان نہیں کیا گیا، اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ متعدد دوسرے ممالک بھی اس کارروائی میں شامل ہونے پر تیار ہو گئے ہیں لیکن ان کی ترجیح ہے کہ ان کا نام کھلے طور پر ظاہر نہ کیا جائے۔
اس مشن کو پہلے سے موجود اس مشترکہ ٹاسک فورس 153، (CTF 153) سے مربوط کیا جائے گا جسے بحیرہ احمر اور باب المنداب اور خلیج عدن میں بحری سیکیورٹی بہتر بنانےکے لیے اپریل 2022 میں تشکیل دیا گیا تھا۔
سی ٹی ایف 153 میں 39 رکن ملک شامل ہیں لیکن عہدے دار یہ تعین کرنے کے لیے کام کرر ہے ہیں کہ ان میں سے کون اس تازہ ترین کوشش میں شرکت کرے گا۔
ایک الگ خبر کے مطابق امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ حملوں کے خلاف ایکشن لے۔
امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کونسل کے ارکان کو ایک خط میں، جسے ایسو سی ایٹڈ پریس نے پیر کے روز حاصل کیا، کہا کہ بین الاقوامی آبی شاہراہوں سے قانونی طور پر گزرنے والے کمرشل بحری جہازوں، جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں، بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اور بین الاقوامی تجارت کو حوثی باغیوں کی جانب سے نشانہ بنا کرکیے گئے حملوں سے، مسلسل خطرہ لاحق ہے۔”
پندرہ رکنی کونسل نے پیر کو بند دروازوں کے پیچھے حوثی خطرے پر گفتگو کی لیکن فوری طور پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔
امریکی جنگی جہاز، یو ایس ایس کارنی اور یو ایس ایس میسن، نیوی ڈیسٹرائرز۔۔۔ حوثیوں کے حملوں کو روکنے اور جوابی حملے کرنے میں مدد کے لیے روزانہ آبنائے باب المنداب میں متحرک ہیں۔
توسیعی کارروائی کی تشکیل کا اقدام اس کے بعد کیا گیا ہے جب 3 دسمبر کو یمن میں ایران کی پشت پناہی کے حامل حوثی باغیوں نے تین کمرشل بحری جہازوں پر میزائیلوں سے حملے کیے۔
یہ حملے تشدد کی اس بڑھتی ہوئی مہم کا حصہ تھے جس میں امریکی جنگی بحری جہازوں پر مسلح اور دوسرے ڈرونز حملے بھی شامل تھے۔
امریکہ نے تاحال نہ تو یمن میں فعال ایرانی پشت پناہی کے حامل حوثیوں پر جوابی حملے کیے ہیں اور نہ ہی عسکریت پسندوں، ہتھیاروں اور دوسرے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
پیر کے روز آسٹن نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ پینٹاگان نے کوئی جوابی حملہ کیوں نہیں کیا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدے پر اندرونی اختلافات سامنے آ گئے
13/June/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا، وزیراعظم شہباز شریف
13/June/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے مجوزہ معاہدے کا اسرائیل حصہ نہیں، وزیراعظم نتین یاہو
13/June/2026 👁️ 141 بار دیکھا گیا
بنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات، دو پولیس اہلکار ہلاک
13/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر ’بہترین‘ سمجھوتہ طے پا گیا، امریکی صدر
13/June/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
لکی مروت: مسجد پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، حملہ آور مارا گیا، 2 افراد ہلاک
13/June/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8816 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4526 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3257 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2436 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2079 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1884 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C