14/April/2025

بلوچستان: نوشکی میں ایف سی کیمپ سمیت دیگر مقامات پر حملے اور ہلاکتیں

👁️ 52 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: نوشکی میں ایف سی کیمپ سمیت دیگر مقامات پر حملے اور ہلاکتیں

بلوچستان: نوشکی میں ایف سی کیمپ سمیت دیگر مقامات پر حملے اور ہلاکتیں

کوئٹہ (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بار پھر عسکریت پسندی کی شدت نے سیکیورٹی فورسز کو ہلا کر رکھ دیا۔ ضلع نوشکی کے علاقے گلنگور میں 13 اپریل کو رات گئے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے مرکزی کیمپ، لیویز چیک پوسٹ اور کسٹم پوسٹ پر ایک مربوط اور بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا۔ حملے میں ایف سی کے صوبیدار دوست محمد ہلاک جبکہ تین دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں کی تعداد 70 سے زائد تھی جنہوں نے ایک منظم حکمت عملی کے تحت نہ صرف کیمپ پر براہ راست حملہ کیا بلکہ مرکزی شاہراہ پر بھی پوزیشن سنبھال کر گھات لگا لی، تاکہ کمک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔ علاقے میں کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی جس میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

یہ حملہ نوشکی شہر سے تقریباً 33 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع علاقے گلنگور میں کیا گیا، جو کہ ماضی میں نسبتاً پُرامن تصور کیا جاتا تھا۔ اس علاقے میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا حملہ ہے، جس نے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کو چونکا دیا بلکہ علاقے میں موجود شہری آبادی کو بھی شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔

حملے کے بعد علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں۔ زمینی فورسز نے بھی علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا۔

پس منظر

مارچ 2025 کے دوران بلوچستان میں بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے مسلسل چوتھا بڑا حملہ ہے۔

11 مارچ کو بولان میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کیا اور 200 سے زائد فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔

16 مارچ کو نوشکی کے قریب فوجی قافلے کو بی ایل اے مجید بریگیڈ نے خودکش حملے میں نشانہ بنایا۔

27 مارچ کو بلوچ مسلح تنظیموں کے اتحاد ‘براس’ نے مربوط کارروائی کی۔

یہ تمام حملے بلوچستان میں مسلح تحریک کی شدت، تربیت اور منظم حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تنظیمی سرگرمیاں اور خطرات

حالیہ مہینوں میں بلوچ مسلح تنظیموں نے اپنی صفوں میں تبدیلیاں لاتے ہوئے خود کو بڑے اور پیچیدہ نوعیت کے حملوں کے لیے تیار کر لیا ہے۔ ان حملوں میں روز بروز شدت اور دائرہ کار میں وسعت آ رہی ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیمیں اب شہروں کے قریب علاقوں کو بھی نشانہ بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں مزید حملوں کے خطرات بڑھ چکے ہیں۔

قلعہ سیف اللہ حملہ

ادھر بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں لیویز اہلکار اسحاق خان میرزئی ہلاک ہوا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C