10/March/2025

بلوچستان: پنجگور میں سندھ سے آنے والے تین حجاموں کو گولی مار دی گئی

👁️ 52 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان:  پنجگور میں سندھ سے آنے والے تین حجاموں کو گولی مار دی گئی

بلوچستان: پنجگور میں سندھ سے آنے والے تین حجاموں کو گولی مار دی گئی

کوئٹہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے پیر 10 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق تینوں ہلاک شدگان ایسے پاکستانی تھے، جو صوبہ سندھ سے نقل مکانی کر کے بلوچستان میں مقیم تھے اور حجاموں کے طور پر کام کرتے تھے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بلوچستان میں، جہا‌ں علیحدگی پسند قوم پرست بلوچوں کی مسلح عسکریت پسندی گزشتہ کچھ عرصے سے کافی زیادہ ہو چکی ہے، ملک کے دیگر علاقوں سے آ کر اس شمال مغربی سرحدی صوبے میں آباد ہو کر وہاں کام کرنے والے محنت کشوں پر حملے بھی کافی تواتر سے کیے جاتے ہیں۔

بلوچستان میں ایسے غیر مقامی پاکستانی کارکنوں کو اکثر پنجابی کہہ کر کے ان پر حملے کیے جاتے ہیں کیونکہ آبادی کے لحاظ سے پنجاب ہی ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ایسے غیر مقامی پاکستانی مزدوروں پر قوم پسند بلوچ عسکریت پسند یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ذاتی فائدے کے لیے اس صوبے کا رخ کرتے ہیں اور اسی لیے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مرنے والے تینوں حجام سندھی تھے

پنجگور کے ایک پولیس اہلکار محمد زاہد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ”اس حملے میں تین سندھی حجام مارے گئے۔‘‘

بلوچستان میں، جس کی سرحدیں پاکستان کے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، عسکریت پسندوں کی طرف سے داخلی نقل مکانی کر کے وہاں آباد ہونے والے ہیئر ڈریسرز پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے مخبری کرتے ہیں۔

پولیس اہلکار محمد زاہد کے بقول، ”اس حملے میں مسلح افراد اتوار نو مارچ کی شام ایک موٹر سائیکل پر سوار ایک باربر شاپ تک پہنچے اور انہوں نے دکان میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی۔‘‘

ڈیلی اردو کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت زبیر ولد بجار، ستار ولد بجار اور گل زماں کے ناموں سے ہوئی۔ زبیر اور ستار سگے بھائی تھے۔

آخری خبریں ملنے تک پولیس کے مطابق کسی بھی مسلح گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔

بلوچستان لبریشن آرمی سب سے فعال مسلح گروپ

بلوچستان میں یوں تو کئی مسلح قوم پسند گروہ سرگرم ہیں، تاہم ان میں سے سب سے زیادہ فعال بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے نامی وہ علیحدگی پسند گروہ ہے، جس کی طرف سے پاکستان کے دیگر علاقوں سے آ کر بلوچستان میں آباد ہونے والے باشندوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ قدرتی وسائل سے مالا مال اس صوبے کے ”استحصال‘‘ کے لیے اس کا رخ کرتے ہیں۔

گزشتہ ماہ فروری میں بھی بلوچ عسکریت پسندوں نے ایک مسافر بس کو روک کر اس میں سوار سات پنجابی مزدوروں کو قتل کر دیا تھا۔ ان مزدوروں کو قتل کرنے سے پہلے عسکریت پسندوں نے ان کی شناختی دستاویزات دیکھ کر اس بات کو یقینی بنا لیا تھا کہ ان کا تعلق پاکستان میں کہاں سے تھا۔

اس کے علاوہ گزشتہ برس اپریل میں بھی بلوچستان کے شہر نوشکی میں بھی 11 پنجابی مزدوروں کو قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد پچھلے برس مئی میں بھی مزید چھ پنجابی محنت کش قتل کر دیے گئے تھے۔

اسی دوران صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان میں پولیس افسر سید دلاور نے بتایا کہ ایک دوسرے خونریز واقعے میں کل اتوار ہی کے روز بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستانی فوج کے دو سپاہی مارے گئے جبکہ ایک تیسرا فوجی زخمی ہو گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C