09/March/2025

بنوں کینٹ خودکش حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ میں درج، سنسنی خیز انکشافات

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنوں کینٹ خودکش حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ میں درج، سنسنی خیز انکشافات

بنوں کینٹ خودکش حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ میں درج، سنسنی خیز انکشافات

پشاور (نمائندہ ڈیلی اردو) خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا جس میں کہا گیا کہ 14 برقعہ پوش دہشت گردوں نے بھاری اسلحہ سے حملہ کیا۔

مقدمہ میں مجموعی طورپر پر 47 افراد ہلاک اور 76 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 16 حملہ آور، 9 فوجی اور 22 شہری شامل ہیں۔

بنوں کینٹ میں ہونے والے حملے اور بم دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی بنوں میں درج کرلیا گیا، مقدمہ میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، بارودی مواد کی دفعات شامل ہیں۔

مقدمہ کے مطابق 14 برقعہ پوش دہشت گردوں نے بھاری اسلحہ کے ساتھ حملہ کیا، حملے میں سیکورٹی فورسزکے 9 اہلکار ہلاک اور 18 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

ایف کے مطابق 22 شہری ہلاک اور 58 زخمی ہوگئے تھے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق بنوں کینٹ حملے میں بیک وقت کئی دھماکے ہوئے، بنوں کینٹ کے اندر خود کش دھماکے بھی کئے گئے۔ دہشت گردی کے حملے کے دوران دھماکوں سے آس پاس گھر منہدم ہونے سے خواتین اور بچوں مقامی لوگ لوگ زخمی اور ہلاک ہوئے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو پولیس، ریسکیو اور مقامی افراد نے ہسپتال پہنچا دیا، دہشت گردوں کے حملے سے 6 گاڑیاں مکمل جل گئیں جبکہ متعدد فائرنگ سے خراب ہوئی ہے۔

مقدمہ کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے بارودی مواد سے کینٹ کے اندر دفتر منجمد کئے، کینٹ کے اندر خودکش دھماکے بھی کئے گئے۔

متن میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 2 ٹریکٹر استعمال کیے گئے، اور مجموعی طور پر 7 ہزار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، جب کہ دہشت گرد کارروائی کے لیے رکشے میں آئے تھے۔

یاد رہے 4 مارچ 2025 کو بنوں چھاؤنی پر کالعدم حافظ گل بہادر گروپ کے وابستہ جیش فرسان نے حملہ کیا تھا۔

اس دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 16 حملہ آور مارے گئے تھے جن میں 2 خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس جھڑپ میں 5 جوان بھی مارے گئے، جبکہ دہشت گردوں نے بارود سے بھری دو گاڑیاں چھاؤنی کی دیوار سے ٹکرائیں، خودکش دھماکوں کے نتیجے میں چھاؤنی کی دیوار کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔

ترجمان پاکستانی فوج کے مطابق واقعے میں 13 معصوم شہری ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسجد اور عمارت شدید متاثر ہوئی۔

بعد ازاں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دہشتگرد حملے کے بعد بنوں کا دورہ کیا، جہاں پاک فوج کے سربراہ کو سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاک فوج ریاست کی سلامتی، استحکام یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی اور ملکی استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف دفاع کا فریضہ ادا کرتی رہے گی جب کہ کسی کو بھی ملکی امن اور استحکام میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جنرل عاصم منیر نے مقامی برادری کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ مسلح افواج پاکستان کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C