25/December/2025

تاجکستان: افغان سرحد پر جھڑپ: دو تاجک اہلکار ہلاک، طالبان کو ’منہ توڑ جواب‘ کی کھلی دھمکی

👁️ 235 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تاجکستان: افغان سرحد پر جھڑپ: دو تاجک اہلکار ہلاک، طالبان کو ’منہ توڑ جواب‘ کی کھلی دھمکی

تاجکستان: افغان سرحد پر جھڑپ: دو تاجک اہلکار ہلاک، طالبان کو ’منہ توڑ جواب‘ کی کھلی دھمکی

دوشنبے (ڈیلی اردو/خاور نیوز ایجنسی/بی بی سی) تاجکستان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد پر بدھ کے روز ہونے والی جھڑپ کے دوران تین مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جبکہ اس واقعے میں دو تاجک سرحدی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

 

تاجکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی خاور کے مطابق، ملک کی سکیورٹی کمیٹی نے بتایا کہ مسلح افراد نے منگل کی شب ضلع شمس الدین شوہین کے قووق علاقے میں تاجک سرحد عبور کی۔ یہ علاقہ سرچشمہ سرحدی چوکی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

 

حکام کے مطابق اگلی صبح سرحدی گارڈز کو ان افراد کے ٹھکانے کا علم ہو گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ افراد نے سرحدی اہلکاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی۔

 

تاجک حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کا ارادہ سرحدی چوکیوں میں سے ایک پر حملہ کرنا تھا۔ جوابی کارروائی میں تینوں مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

 

طالبان حکومت پر تنقید اور معافی کا مطالبہ

 

اس واقعے کے بعد تاجکستان کے حکام نے افغانستان میں طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 

سکیورٹی کمیٹی کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی اور اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کی ادائیگی میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

 

بیان میں مزید کہا گیا کہ طالبان حکومت کو اس واقعے پر تاجک عوام سے معافی مانگنی چاہیے اور سرحدی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

 

سکیورٹی کمیٹی نے خبردار کیا کہ تاجکستان کے پاس سرحد کے تحفظ کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور افغانستان سے سرحد پار کرنے کی کسی بھی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

حکام کے مطابق فی الحال سرحد پر حالات پُرسکون ہیں، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

 

سرحدی کشیدگی میں اضافہ

 

ریڈیو لبرٹی کی تاجک سروس اوزودی نے 24 دسمبر کو رپورٹ کیا تھا کہ تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں دو تاجک افسران اور متعدد مسلح افغان افراد ہلاک ہوئے۔

 

اوزودی کے مطابق ہلاک ہونے والے تاجک اہلکاروں کی شناخت سرچشمہ فوجی یونٹ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عصمت اللہ قربانوف اور 33 سالہ زیریبون نوروز بیکوف کے طور پر کی گئی ہے۔

 

یہ واقعہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر تشدد کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل نومبر کے آخر میں تاجکستان کے سرحدی اضلاع درووز اور شمس الدین شوہین میں ہونے والے دو حملوں میں تین چینی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

 

تاجک حکام نے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیا تھا، جس کے بعد چین نے تاجکستان سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاجکستان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان حملوں میں افغانستان کی جانب سے گرنیڈ سے لیس ڈرون استعمال کیا گیا۔

 

طالبان حکومت نے ان حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں اُن گروہوں کی جانب سے کی گئیں جو خطے میں عدم استحکام اور بداعتمادی پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم بیان میں کسی ملک یا گروہ کا نام نہیں لیا گیا تھا۔

 

سرحدی چوکیاں اور سکیورٹی اقدامات

 

تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تاجکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر چار نئی سرحدی چوکیاں قائم کی ہیں۔

 

تاجک صدر کے دفتر کے مطابق 24 دسمبر کو صدر امام علی رحمان نے دیگر سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ہمراہ ان چوکیوں کے افتتاح کے لیے ایک آن لائن تقریب میں شرکت کی۔

 

نئی چوکیاں سرحد کے دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں تعمیر کی گئی ہیں، جہاں دراندازی اور سمگلنگ کے خطرات زیادہ ہیں۔

 

حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں سرحد پر 80 سے زائد سرحدی چوکیاں تعمیر کی جا چکی ہیں، جبکہ افغانستان کی سرحد کے قریب ٹینکوں کی تربیت کا مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔

 

تاجکستان اور افغانستان کے درمیان 1344 کلو میٹر طویل سرحد واقع ہے، جس کا بیشتر حصہ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، جس کے باعث اس کا مکمل تحفظ ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

 

تاجکستان افغانستان سے مغربی یورپ تک منشیات کی سمگلنگ کے اہم راستوں میں سے ایک پر واقع ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C