24/November/2019

جاسوسی کا الزام: پاک فوج کے (ر) بریگیڈئیر راجہ رضوان کو کیا سزا ملی؟

👁️ 576 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جاسوسی کا الزام: پاک فوج کے (ر) بریگیڈئیر راجہ رضوان کو کیا سزا ملی؟

جاسوسی کا الزام: پاک فوج کے (ر) بریگیڈئیر راجہ رضوان کو کیا سزا ملی؟

راولپنڈی (ڈیلی اردو) بھارت کیلئے جاسوسی کرنے والے بریگیڈئیر (ر) راجہ رضوان کو تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے (ر) بریگیڈئیر راجہ رضوان کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ تعلقات اور جاسوسی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر آج عمل درآمد ہوگیا ہے۔

معروف صحافی اور سینئر تجزیہ نگار چوہدری غلام حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ بریگیڈئیر (ر) راجہ رضوان کی سزا پر آج عمل درآمد ہوگیا ہے۔

https://twitter.com/GhulamHusainPK/status/1198535440007077888?s=08

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے ملک سے غداری کرنے والے بریگیڈیئر(ر) راجہ رضوان کی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔ غداری کی سزا پانے والے بریگیڈئیر (ر) راجہ رضوان کے حوالے سے معلومات سامنے آئی تھیں کہ راجہ رضوان پاک فوج میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہا اوروہ 2014 میں پاک فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد اسلام آباد میں رہ رہا تھا۔

سینئر تجزیہ نگار انور لودھی نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‏بریگیڈیئر راجہ رضوان کو جاسوسی اور غداری کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ کدھر ہیں وہ جو کہتے تھے کہ فوجیوں کا احتساب نہیں ہوتا؟ ریاست کے خلاف غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے سیاستدانوں اور صحافت کی کالی بھیڑوں کے خلاف بھی ایسی ہی کاروائی ہونی چاہیے۔

بعد ازاں انہوں نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کردی

سما نیوز کے رپورٹر عدنان عدیل نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‏آج فوج نے تو بریگیڈئیر راجہ رضوان کو جاسوسی و غداری کے جرم میں رحم کی اپیل مسترد ہونےکے بعد پھانسی دے دی

https://twitter.com/adnanaadil/status/1198465143677628417?s=08

ذرائع کے مطابق بریگیڈئیر راجہ رضوان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی سکیورٹی ادارے اس پر نظر رکھے ہوئے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد میں بھی اس پر نظر رکھی گئی۔

ذرائع نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ 2009 سے 2012 کے دوران رضوان جرمنی میں ملٹری اتاشی کی ذمہ داریاں نبھاتا رہا ہے اور اسی دوران اس کا رابطہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ جرمنی اور آسٹریا میں تعیناتی کے دوران راجہ رضوان نے بھارت کو بھاری رقوم کے عوض ملکی راز بیچے۔

البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج میں موجود تحقیقاتی ادارے کو اس بات کا علم ہوگیا تھا اسی لیے راجہ رضوان کی نگرانی مزید سخت کردی گئی۔

ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے راجہ رضوان کی جانب سے دشمن کو بیچے گئے رازوں کا پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا لیکن غلطی کی سزا اسے مل گئی ہے۔ 2014 میں بریگیڈیئر راجہ رضوان پاک فوج سے ریٹائر ہوگیا تھا اور اسلام آباد میں رہ رہا تھا البتہ اس دوران اس کے خلاف کی جانے والی تحقیقات خاموشی سے جاری رہیں اور 10 اکتوبر 2018 کو جب وہ اپنے ڈرائیور وسیم اکبر کے ساتھ اپنے دوست کو ملنے کے لئے جارہا تھا تو اسلام آباد کی جی 10 مارکیٹ کے قریب سے اسے تحویل میں لے لیا گیا۔

کئی روز تک واپس نہ پہنچنے پر اس کے بیٹے علی رضوان نے اپنے وکیل انعام الرحیم خواجہ کی مدد سے 23 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس حوالے سے درخواست دائر کی اور درخواست میں موقف اپنایا گیاکہ نا معلوم افراد اس کے والد راجہ رضوان کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔

علی رضوان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 10 اکتوبر کی رات کو سادہ کپڑوں میں ملبوس 3 افراد نے اس کے والد کو اغواکیا ہے اور اس کے بعد سے اس کے والد کا موبائل فون بند جارہا ہے۔اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوئی اور 15 نومبر 2018 کو وزارت دفاع کے ایک نمائندے نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ راجہ رضوان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جارہی ہے اور اس کے ایک فوجی ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا مقدمہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد عدالت کی کاروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی تھی۔

اس کے بعد 30 مئی 2019 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی راجہ رضوان کی سزائے موت کی توثیق کردی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C