06/August/2024

جاپان میں علاقائی تنازعات کے درمیان ہیروشیما واقعے کی برسی

👁️ 39 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جاپان میں علاقائی تنازعات کے درمیان ہیروشیما واقعے کی برسی

جاپان میں علاقائی تنازعات کے درمیان ہیروشیما واقعے کی برسی

ٹوکیو (ڈیلی اردو/اے ایف پی/اے پی/ڈی پی اے) ایسے وقت جب عالمی سطح پر کشیدگی ہے، ہیروشیما میں حکام نے ایٹمی جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دیا ہے۔ 79 سال قبل آج ہی کے دن امریکہ نے اس شہر کو ایٹمی بم سے تباہ کر دیا تھا۔

جاپان میں ہیروشیما کے گورنر ہیدی ہیکو یوزا نے منگل کے روز جوہری حملے کی 79ویں برسی کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے جوہری ہتھیاروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی پرجوش اپیل کی۔

ہیروشیما کے پیس میموریل پارک میں اپنے خطاب کے دوران گورنر نے کہا کہ ”جب تک جوہری ہتھیار موجود ہیں، وہ یقیناً کسی دن دوبارہ استعمال کیے جائیں گے۔”

واضح رہے کہ امریکہ نے چھ اگست سن 1945 کو جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایک جوہری بم گرایا، جس سے تقریبا ًپورا شہر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حملے میں تقریباً 140,000 افراد ہلاک ہوئے تھے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ”جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے حصول کی کوئی مثال مستقبل بعید میں نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس کے بجائے یہ ایک اہم اور حقیقی مسئلہ بنا ہوا ہے، جس پر ہمیں اس لمحے شدت سے غور و فکر کرنا چاہیے، کیونکہ جوہری مسائل انسانی بقا کے لیے ایک فوری خطرہ ہیں۔”

غزہ اور یوکرین کی جنگیں ‘خوف و عدم اعتماد’ کے بیج بو رہی ہیں

ہیروشیما کے میئر کازومی ماتسوئی نے بھی اسی تقریب سے خطاب کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح موجودہ تنازعات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو معمول بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ اور یوکرین کے خلاف روسی جنگ ”بے شمار بے گناہ لوگوں کی جانیں لے رہی ہیں اور عام زندگیوں کو تباہ کر رہی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا، ”یہ عالمی سانحات اقوام عالم کے درمیان عدم اعتماد اور خوف کو مزید گہرا کر رہے ہیں، جس سے عوام کے اس تصور کو مزید تقویت مل رہی ہے کہ بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے ہمیں فوجی طاقت پر انحصار کرنا ہو گا، جسے ہمیں مسترد کر دینا چاہیے۔”

ہیروشیما میں ہونے والی اس تقریب میں وزیر اعظم فومیو کشیدہ سمیت تقریباً پچاس ہزار افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر صبح سوا آٹھ بجے، جس وقت امریکہ نے شہر پر بم گرایا تھا، امن کی گھنٹی کی آواز کے ساتھ ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

جاپان میں یہ یادگاری تقریب اور جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کی اپیل ایک ایسے وقت ہوئی، جب ابھی حال ہی میں امریکہ نے اپنے ایشیائی اتحادی کی حفاظت کے لیے ”توسیع شدہ ڈیٹرنس” کے لیے اپنے عزم کی توثیق کی اور کہا کہ اس میں جوہری ہتھیاروں کا ممکنہ استعمال بھی شامل ہے۔

جاپان میں نیوکلیئر ڈیٹرنس کے بارے میں اس طرح کی کھلی بحث ایک نیا موقف ہے، کیونکہ دنیا میں وہی واحد ملک ہے جسے ایٹمی حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور ملک جوہری ہتھیاروں سے نجات کی بات کرتا رہا ہے۔

ہیروشیما میں کیا ہوا تھا؟

چھ اگست 1945 کے روز دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے کچھ دن پہلے امریکی افواج نے جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے شہر پر ایک جوہری بم گرا دیا تھا۔

اس جوہری بم کے حملے میں فوری طور پر دسیوں ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ بچ جانے والے بہت سے متاثرین برسوں اس کے خوفناک اثرات سے متاثر رہے، جو دھماکوں اور تابکاری کے سبب دیرپا زخموں اور بیماریوں کا شکار ہو گئے تھے۔

اس حملے کے چند دن بعد امریکہ نے پھر سے جاپان کے جنوب مغربی شہر ناگاساکی کو بھی ایک اور جوہری بم سے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں تقریباً 74,000 افراد ہلاک ہوئے اور زبردست تباہی ہوئی۔

ان دونوں حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد دو ستمبر کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C