11/March/2025

جعفر ایکسپریس پر بی ایل اے کا حملہ: ’470 سے مسافر اور فوجی یرغمال، 30 اہلکار ہلاک

👁️ 75 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جعفر ایکسپریس پر بی ایل اے کا حملہ: ’470 سے مسافر اور فوجی یرغمال، 30 اہلکار ہلاک

جعفر ایکسپریس پر بی ایل اے کا حملہ: ’470 سے مسافر اور فوجی یرغمال، 30 اہلکار ہلاک

کوئٹہ (ڈیلی اردو/رائٹرز/ڈی پی اے/اے ایف پی/بی بی سی) پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بولان کے علاقے میں جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں 30 اہلکار ہلاک اور درجنوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں بروز منگل کو بلوچ علیحدگی پسندوں نے جعفر ایکسپریس نامی مسافر ٹرین پر حملہ کیا اور 214 پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 470 افراد کو یرغمال بنا لیا۔

پاکستان میں عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے بلوچستان کے درۂ بولان کے علاقے میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

جعفر ایکسپریس پر حملے کی اطلاعات منگل سہ پہر موصول ہوئی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے منگل کو ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین پر حملہ کیا اور وہاں واقع ایک سرنگ میں اسے روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ عسکری ذرائع نے یرغمال بنائے جانے والے افراد کی تعداد تو نہیں بتائی تاہم کوئٹہ میں ریلوے کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ٹرین پر 400 سے زیادہ افراد سفر کر رہے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہ انتہائی دشوار گزار اور مرکزی سڑک سے دور ہے تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے جو شدت پسندوں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جعفر ایکسپریس پر قبضہ کرنے اور مسافروں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

بی ایل اے نے 30 سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کو مارنے اور ایک ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

عسکریت پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ٹرین سے 182 افراد کو یرغمال بنا لیا ہے اور ساتھ ہی یہ دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو یرغمالیوں کو قتل کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ کا دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ 214 مسافروں کو جنگی قیدی بنا لیا گیا ہے اور ان کی تنظیم قیدیوں کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔

اب تک پاکستانی حکام کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور ڈرون کے مار گرائے جانے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اس واقعے کی ابتدائی تفصیلات کی موصولی کے دوران ایک سرکاری اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مسلح افراد نے 450 مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔‘‘

منگل کی شب آخری اطلاعات ملنے تک کچھی بولان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رانا دلاور نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ٹرین میں سوار مسافروں میں سے تقریباﹰ350 افراد محفوظ ہیں، جب کہ 35 کو عسکریت پسندوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے حملے کے بعد ایک ’’بڑا آپریشن‘‘ شروع کر دیا تھا، جس کے لیے ہیلی کاپٹر اور اسپیشل فورسز کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

ریلوے حکام نے بتایا تھا کہ جعفر ایکسپریس، جس میں 9 بوگیوں میں 400 کے قریب مسافر سوار تھے، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے خیبر پختونخوا کے شہر پشاور جا رہی تھی۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے منگل کو ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین پر حملہ کیا اور وہاں واقع ایک سرنگ میں اسے روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ حکام کی جانب سے کلیئرنس آپریشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید کوئی اطلاع سامنے نہیں آ رہی۔

یہ حملہ منگل کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب کیا گیا جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق ریل گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت “معصوم مسافروں پر گولیاں چلانے والے درندوں” کو کوئی رعایت نہیں دے گی۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور تمام اداروں کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔

جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں سبّی کے سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے.

عینی شاہدین کے مطابق کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے درہ بولان کی جانب ہیلی کاپٹرز کی پروازیں جاری ہیں۔

انھوں نے بتایا اب تک پانچ ہیلی کاپٹرز پرواز کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ مشکل گزار راستے کی وجہ مسافر ٹرین تک زمینی رسائی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

سبی ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر گرمکھ داس نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور دوایمبولینسز جائے وقوعہ کے قریب واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈھاڈھر، کچی بھجوا دیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانچ ایمولینسز اور ہسپتال کا عملہ الرٹ ہے۔

تاہم ایم ایس ڈاکٹر گرمکھ داس نے بتایا کہ جائے وقوعہ کچی کے سرکاری ہسپتال سے بھی دس سے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور نیٹ ورک کے مسائل اور زمینی راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے وہاں ایمولینس کی رسائی ممکن نہیں۔

طبّی حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام اور حملے کی زد میں آنے والے علاقے میں موجود طبی مراکز کے عملے سے رابطے میں ہیں مگر ابھی کوئی مزید اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے

منگل کی دوپہر شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

مچھ کے مقامی صحافی عمران سمالانی جو اس وقت مچھ سٹیشن پر ہی موجود ہیں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان مسافروں کو پہنچانے والا ریلیف ٹرین 11 بجے سٹیشن پہنچی ہے اور اس موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ریلوے کے حکام کے مطابق 80 مسافروں کو ریلیف ٹرین کے ذریعے پنیر سٹیشن سے مچھ پہنچایا گیا ہے۔

ریلوے ایک اہلکار نے بتایا کہ 80 مسافروں میں 43 مرد، 26 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں۔

بلوچستان ریسیکو کے مطابق مچھ ریلوے سٹیشن پر پہنچنے والے جعفر ایکسپریس کے مسافروں میں اکثریت خواتین، بچوں اور بڑی عمر کے افراد کی ہے۔ ان میں صرف دو خواتین ایسی ہیں ککہ جو گولیاں لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئی ہیں۔ تاہم زخمی ہونے والوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ زخمی ہونے والی خواتین کے حوالے سے بلوچستان ریسکیو کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ریسیکو کے مطابق مچھ ریلوے سٹیشن پہچنے والے جعفر ایکسپریس کے مسافر بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ مچھ پہنچنے والے کچھ مسافر معمولی زخمی ہیں جنھیں ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے رشتہ دار وغیرہ مچھ ریلوے سٹیشن پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کا وہاں پر اندراج ہورہا ہے جس کے بعد ان کو سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت میں اپنے اپنے گھروں کی جانب روانہ کر دیا جائے گا۔

جعفر ایکسپریس پر کس جگہ حملہ ہوا؟

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بولان کے علاقے میں جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا ہے، بولان دراصل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور سبی کے درمیان سو کلومیٹر سے زیادہ کا دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔

اس علاقے میں کوئٹہ کے جنوب مشرق میں کولپور سے سبی تک ریلوے لائن پر 17 سرنگیں ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے بولان کے علاقے میں ٹرین کی رفتار معمول سے بہت کم ہوتی ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے بولان میں اب تک ٹرینوں اور ریلوے ٹریک پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ ماضی میں اس علاقے میں ریلوے ٹریک پر دور سے راکٹوں یا ریموٹ کنٹرولڈ بموں کے ذریعے حملے ہوتے رہے ہیں۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے ٹرین کو روک دیا ہے اور یرغمال بنا دیا ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی رہی ہے۔
بلوچستان میں علیحدگی پسند عسکریت پسند گروپوں کی طرف سے دہائیوں سے جاری شورش کے نتیجے میں خطے میں اس نوعیت کے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ بلوچستان میں اس سے قبل نومبر 2024ء میں کوئٹہ میں ایک ٹرین اسٹیشن پر خودکش بم حملے میں مسافروں، ریلوے عملے اور سیکیورٹی گارڈز سمیت کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی ایل اے کون ہے اور کیا چاہتی ہے؟

بی ایل اے ایک علحیدگی پسند عسکری گروہ ہے جو ’آزاد بلوچستان‘ کا خواہاں ہے۔ یہ بلوچستان میں سرگرم کئی نسلی باغی گروہوں میں سب سے بڑا گروہ ہے جو کئی دہائیوں سے حکومت مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔ اس عسکری گروپ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت خطے کے قدرتی وسائل کا غیر منصفانہ استحصال کر رہی ہے۔
اس نے کئی دہائیوں سے خطے میں حکومت، مسلح افواج اور چینی باشندوں کے خلاف حملے شروع کیے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C