15/March/2025

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر: لکی مروت، بنوں اور خیبر میں 8 تھانوں اور چوکیوں پر حملے

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر: لکی مروت، بنوں اور خیبر میں 8 تھانوں اور چوکیوں پر حملے

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر: لکی مروت، بنوں اور خیبر میں 8 تھانوں اور چوکیوں پر حملے

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدت پسندوں نے 8 مختلف پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے کیے، جن میں دستی بموں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ حملوں کے دوران پولیس اہلکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

لکی مروت: پولیس تھانوں اور موبائل پر حملے

لکی مروت پولیس کے مطابق، جمعہ کی رات دہشت گردوں نے دادی والا اور پیزو تھانوں پر حملہ کیا، لیکن پولیس کی بروقت جوابی کارروائی کی بدولت حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔

اسی رات، لنڈیواہ روڈ پر شدت پسندوں نے سڑک کنارے نصب بم سے پولیس موبائل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

عباسہ خٹک پولیس چوکی پر بھی مسلح حملہ ہوا، جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 پولیس اہلکار زخمی جبکہ ایک حملہ آور مارا گیا۔

بنوں: 3 تھانوں پر حملے، مقامی لوگوں کا پولیس کے حق میں احتجاج

بنوں میں دہشت گردوں نے تھانہ بکاخیل، تھانہ غوری والا، اور خوجڑی پولیس چوکی پر حملے کیے، جن میں دستی بموں اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

خوجڑی پولیس چوکی پر حملے کے بعد مقامی افراد پولیس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہتھیار اٹھا کر چوکی کی حفاظت کے لیے باہر نکل آئے۔ مقامی افراد نے پولیس کے ساتھ مل کر “پولیس زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے۔

خیبر: پولیس چوکی پر حملہ ناکام

قبائلی ضلع خیبر میں، شدت پسندوں نے تھانہ باڑہ کی حدود میں واقع برقمبر تکیہ پولیس چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، لیکن اہلکاروں کی فوری جوابی کارروائی نے حملے کو ناکام بنا دیا۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 9 دہشت گرد ہلاک

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جن میں 9 شدت پسند مارے گئے۔

مہمند ایجنسی میں ایک آپریشن کے دوران 7 دہشت گرد مارے گئے۔ یہ دہشت گرد مختلف حملوں میں ملوث تھے۔ اس آپریشن میں پاک فوج کے 2 جوان، حوالدار محمد زاہد (مالاکنڈ) اور سپاہی آفتاب علی (چترال) ہلاک ہوگئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اور آپریشن میں 2 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔

آئی جی خیبر پختونخوا کا پولیس کے لیے خراج تحسین

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ذوالفقار حمید نے پولیس فورس کے جوانوں کو بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ “پولیس فورس دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، اور ان بزدلانہ حملوں سے ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ عوام کے تعاون سے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔”

آئی جی خیبر پختونخوا نے پولیس اہلکاروں کے لیے تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعامات کا بھی اعلان کیا۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں اضافہ

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ ہفتوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C